شربت گلہ

دہلی پر تخت نشین ہونے کے کچھ عرصہ بعد سلطان بہلول لودھی ملتان اور پنجاب کے انتظام کے لئے چلا گیا پیچھے سے محمود شرقی نے میدان خالی پاکر لشکر عظیم کے ساتھ دہلی پر حملہ کردیا. دہلی میں پٹھانوں کی تعداد بہت کم تھی جو ایک بڑے تیاری لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی. اسی وجہ سے پٹھان معہ اہل و عیال قلعہ میں پناہ گزین ہوگئے . بہلول کی ساس بی بی متو نے مردوں کی کمی پوری کرنے کے لئے قلعہ میں موجود تمام عورتوں کو مردانہ لباس پہنا کر لڑنے کے لئے کھڑا کردیا جو قلعہ کی دیوار سے دشمن پر تیر باری اور سنگ باری کرتیں. جب بہلول کو دیپالپور میں محمود شرقی کے دہلی پر حملہ کی اطلاع ملی تو اس نے وہی سے تیز رفتار قاصد اس پیغام کے ساتھ افغانستان بھیجے کہ ” اللہ تعالی نے دہلی کی بادشاہت پٹھانوں کو عطا فرمائی ہے مگر سلاطین ہند انہیں یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں. اس وقت پٹھانوں کے اہل و عیال قلعہ دہلی میں محصور ہیں, مستورات کی شرم ہماری اور آپ کی ایک ہے. ناموس کا اقتضا یہ ہے کہ آپ اپنے قبیلوں کے ساتھ یہاں آئیں اور اپنے ناموس کی حفاظت کریں. اس پیغام کے ملتے ہی پٹھانوں کے قبائل شروانی, شیرانی, لوحانی, پنی اور ناغڑ بہ سرعت تمام ہندوستان پہنچ گئے.

14962284_1155435487870927_44759604_n

حاجی زردار خان ناغڑ صاحب کی کتاب ” صولت افغانی ” اے اقتباس

Status

اناالحق

  ذی الحج 23- 302  کو بغداد میں یہ اعلان کردیا گیا کہ آج منصور رحمتہ اللہ علیہ کو پھانسی دی جائے گی ، لیکن ایک گروہ کی سیاسی مداخلت سے اس روز عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ 23 زی الحج کی رات کو پچھلے پہر منصور نے حوالات کے پیچھے سجدے سے سراٹھایا اور بلند آواز میں کہا ” شہادت میرے نصیب میں ہے اور روز آخرت میں فاتحوں کی طرح اٹھوں گا”.  24زی الحج کی صبح طلوع ہوئی تو باب خراساں کے تھانے کے سامنے کرائے کے آدمیوں کا ہجوم تھا جنہیں خاص طور پر وہاں لایا گیا تھا ۔ منصور رحمتہ اللہ علیہ کو حوالات سے تختہ دار لایا گیا تو حامیوں اور مخالفوں پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ منصور رحمتہ اللہ علیہ بہادروں کی طرح خود تختہ دار کی طرف بڑھے اور اس نے تختہ دار پر کھڑے ہوکر آس پاس نگاہ ڈالی ۔ لکھے گئے فیصلے کے مطابق سب سے پہلے اسے کوڑے مارے گئے ۔ اس کے بعد ہاتھ کاٹے گئے ۔  “منصور رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تم نے میرے ظاہری ہاتھ کاٹ دیے ہیں لیکن میرے باطنی ہاتھ اب بھی موجود ہیں جو میرے مقصود کو چھورہے ہیں “.  پھر اس کے پاوں کاٹ دیے گئے ۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مسکراکر کہا ” میں ان پیروں سے خاک پر چلا کرتا تھا لیکن میرے باطنی پیراب بھی موجود ہیں جو دونوں عالم کا سفر کرتے ہیں ۔ ہوسکے تو انہیں بھی کاٹ دو “.کچھ دیر کے بعد  منصور نے کٹے ہوئے خون آلودہ بازوں کو چہرے پر مل کر چہرہ اور بازو خون آلودہ بازوؤں کو چہرے پر مل کر چہرہ اور بازو خون آلودہ کرلیے ۔ لوگوں نے سوال کیا آپ نے خون چہرے پر کیوں مل لیا ؟ . منصور رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا ” میں جانتا ہوں زیادہ خون بہہ جانے سے میرا رنگ پیلا پڑگیا ہو گا اور تم سمجھ رہے ہوگے کہ یہ کسی خوف کی وجہ سے ہے ۔ لہٰذا میں نے اپنا چہرہ سرخ کرلیا تاکہ تمہارے سامنے سرخرو رہوں ۔ لیکن حقیقت تو صرف اتنی ہے کہ عشق کی نماز صرف خون کے وضو سے ہی ادا ہوسکتی ہے ۔’ اچانک ایک جلاد آگے بڑھا اور اس نے منصور کی آنکھیں نکال دیں ۔ ہجوم چیخ اٹھا ۔  جلاد نے زبان کاٹنا چاہی تو منصور رحمتہ اللہ علیہ نے کہا  ٹھہرو مجھے کچھ کہنا ہے “.  اتنا کہ کر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا ” اے  خداوند بحروبر ! تو کس طرح اسے دوست نہ رکھے گا جو تیری راہ میں دکھ اٹھاتا ہے ” .  

جب آپ کی زبان کاٹی گئی تو شام  ہوچکی تھی ، سرکاٹنے کا عمل باقی تھا کہ شہر میں ہنگامہ ہوگیا اور خلیفہ کی طرف سے سر کاٹنے کا حکم آنے میں دیر ہوگئی ۔ قاصد خلیفہ کا حکم لے کر عجلت میں باب  خراساں  پہنچا ۔ اس کے ساتھ ابن مکرم کے فراہم کردہ زرخرید گواہ تھے اور وہ پکار پکار کہہ رہے تھے اس کا قتل کرنا مسلمانوں کے حق میں ہے اسے قتل کردو ۔ خون ہماری گردنوں پر ہے ۔ جلاد نے زور سے ہاتھ چلایا اور سرکٹ  کر نیچے آگرا۔ ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی اور منصور رحمتہ اللہ علیہ کے ہر قطرہ خون سے اناالحق کی صد آرہی تھی ۔ شام سے پہلے سربریدہ جسم کو تختہ دار سے  اتار تیل میں تر کر کے آگ لگادی گئی۔ جب جسم خاکستر ہوگیا تو ایک مینار سے راکھ دریائے دجلہ میں بہا دی گئی ۔

img-20161002-wa00081

Status

یہ گڑیانی ہے

قوموں کے لئے موت ہے مرکز سے جدائی

ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے خدائی

اقبال کا یہ شعر گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں پر جیسا صادق آیا اس سے پہلے شاید ہی کسی قوم یا قبیلہ پر آیا ہوگا یوں تو اس سے پہلے ہی ہمارا بدقسمت قبیلہ اپنی اجتماعی قوت کھو چکا تھا مگر تقسیم ملک کی ضرب کاری نے تو ناغڑوں کے شیرازہ کو بکھیرنے کی تکمیل ہی کردی. گڑیانی جو معہ اپنے پانچ گاؤں کے اپنی اجتماعی, اقتصادی, معاشی اور سیاسی حالت کو مضبوط کئے بیٹھے تھے اور ریاست کرولی میں ان کے بھائی ایک جگہ ریاست میں بڑی شان سے رہ رہے تھے وہ بھی منتشر ہوگئے غرض یہ کہ شیخاوتی میں جو ناغڑ پٹھانوں کا مرکز ہے وہاں سے اودھ اور دکن تک تمام ناغڑوں پر زلزلہ آگیا اور سب اپنی اپنی جگہوں پر ہل گئے مگر گڑیانی کو جو صدمہ سہنا پڑا وہ سب سے زیادہ تھا. جب انگریز کو اس امر کا یقین ہوگیا کہ اب ہندوستان میں ان کے قدم جمنا ناممکن ہیں تو انہوں نے انتقام کے لئے اپنا پرانا ہتھیار استعمال کرکے انتقام لیا اور خوب لیا کہ اپنی سیاسی چالوں سے ہندو اور مسلمانوں کے دلوں میں نفاق کا ایسا بیج بویا جو کئی صدیوں تک سرسبز رہیگا وہ اپنے ایک سپاہی کا خون گرائے بغیر ہندو,مسلمانوں کے دس لاکھ افراد کا ایک دوسرے کے ہاتھوں خون بہا گئے.

جب گڑگاؤں کے ضلع میں فساد شروع ہوئے اور ڈپٹی کمشنر نے جو ایک انگریز تھا فسادات روکنے کی جانب کوئی توجہ نہیں کی تو گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں نے خیال کیا کہ فسادات کی لپیٹ ان تک بھی نہ پہنچ جائے تو انہوں نے بڑی دانشمندی سے اپنے قرب و جوار کے بھائیوں کے پانچوں گاؤں کو گڑیانی میں لے آئے ان کے علاوہ تقریباََ دو ہزار میو رانگڑ اور پست اقوام کے افراد گڑیانی میں پناہ گزین تھے جن کی حفاظت اور روزمرہ کی ضروریات بھی گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی انہیں ایام میں پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں پنڈت جواہر لال نہرو وزیراعظم ہندوستان کو گڑیانی کے مسلمانوں کی حفاظت کی جانب توجہ مبذول کروائی جس کا فوری اثر ہوا اور پنڈت جواہر لال نہرو نے کماؤں رجمنٹ کے سپاہیوں کا ایک دستہ ایک صوبیدار اور نائب صوبیدار کی ماتحتی میں گڑیانی کے مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر گڑیانی بھیجدیا اور اسی دستہ کو گڑیانی کے مسلمانوں کو اپنی حفاظت میں پاکستان پہونچانے کا فرض بھی سپرد کیا گیا. کچھ تو حکومت ہند کی فوری توجہ کی وجہ سے اور کچھ مقامی حکام مثل دہلی سپرنٹنڈٹ پولیس اور تھانیدار جو کہ دونوں سکھ تھے کی اپنے فرائض کو ایمانداری سے انجام دینے کے سبب گڑیانی میں امن و امان رہا. اس کے علاوہ قرب و جوار کے ہندو بھائیوں نے بھی کوئی مخمصانہ کاروائی نہیں کی وہ دوستانہ طور پر گڑیانی میں آتے جاتے رہے اور ملتے جلتے رہے حتی کہ کوسلی جو اسیر قوم کی بڑی بستی تھی اور گڑیانی سے صرف چار میل کے فاصلہ پر ہے نیز بلوائیوں کا مرکز بھی کوسلی میں تھا جہاں سے بلوائیوں کو راشن تقسیم ہوتا تھا انہوں نے بھی گڑیانی کے خلاف کوئی حرکت نہیں کی اور ہر طرح کا امن و امان رہا.

جب ہند و پاکستان ہر دو حکومتوں کے درمیان اس امر کا قطعی فیصلہ ہوگیا کہ تبادلہ آبادی کے سلسلہ میں مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو پاکستان جانا ہوگا جس پر گڑیانی کے سربرآوردہ پٹھانوں نے حکومت ہند, پنڈت جواہر لال نہرو, گورنر پنجاب اور ڈپٹی کمشنر رہتک کی خدمت میں درخواستیں اور تار دیئے کہ ہم اپنا وطن عزیز چھوڑ کر پاکستان جانا نہیں چاہتے مگر حکومتوں کے فیصلوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں کی درخواستوں پر کوئی شنوائی نہیں کی گئی.

آخر کار 21 نومبر 1947ء کو گڑیانی کی کل آبادی دو ٹرینوں کے زریعے کماؤں رجمنٹ کی کمپنی کی حفاظت میں باچشم گریاں اور سینہ بریاں ایک اسٹیشن کے فاصلہ سے پاکستان کی جانب روانہ ہوئے. روانگی کا منظر بڑا دردناک تھا ہر شخص کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور غم سے سینے پھٹے جارہے تھے اور چہروں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پاکستان نہیں پھانسی کے تختہ پر جارہے ہوں. انسان کے لئے اس سے بڑھ کر دوسری مصیبت نہیں کہ اس کا گھر بار اس سے چھڑایا جائے.

گاڑی جس اسٹیشن پر ٹہرتی وہاں اسٹیشن کے ہر جانب سے یہی صدا آتی کہ یہ گڑیانی ہے چنانچہ بہواتی, ہاتھی, حصار اور ہٹنڈہ پر یہی فقرے کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ گڑیانی ہے. معلوم ہوتا تھا کہ راستہ کے تمام مقامات پر پہلے ے خبر کردی گئی تھی مگر ہندوستانی فوج کا دستہ اپنا فرض کماحقہ ادا کررہا تھا اس وجہ سے راستہ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا. جب ٹرین کورٹ کورہ سے چار میل کے فاصلہ پر پہونچی تو ٹرین کھڑی ہوگئی اور ڈرائیور انجن کو ٹرین سے جدا کرکے کورٹ کپورہ کے اسٹیشن پر لے گیا. اسی عرصہ میں دوسری ٹرین بھی پہنچ گئی. انجن ڈرائیور کے کورٹ کپورہ پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد بلوائیوں کی ایک بڑی جماعت لاریوں میں بیٹھ کر ٹرینوں کے کھڑے ہونے کی جگہ پہنچی جو کہ ٹرینوں پر حملہ کرنے کی غرض سے آئی تھی جس کا انتظام پہلے سے کرلیا گیا تھا. بلوائیوں کا لیڈر جو ایک فوجی افسر معلوم ہوتا تھا فوج کے حفاظتی دستہ کے صوبیدار سے کچھ عرصہ گفتگو کرتا رہا غالباََ صوبیدار کو ساتھ ملانا چاہتا تھا مگر صوبیدار اور نائب صوبیدار جو نہایت ایماندار اور اپنے فرض کے پابند تھے انہوں نے فوراََ اپنے فوجی دستہ کو ہتھیار سنبھال کر حفاظت کے لئے تیار کردیا. صوبیدار نے بلوائیوں کے لیڈر کو صاف جواب دے دیا کہ پہلے ہم اور ہمارا فوجی دستہ ختم ہوگا اسکے بعد ہی کوئی شخص ٹرین کے نزدیک آسکے گا بلوائیوں کا لیڈر یہ سن کر مایوسی کی حالت میں واپس چلاگیا جسکے چلے جانے کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ صوبیدار نے بلوائیوں کے لیڈر کو یہ بھی کہدیا تھا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو میں پاکستان کو جس کی سرحد بہت قریب ہے. وائرلیس کے زریعے پاکستانی فوج طلب کرلوں گا. صوبیدار مزکورہ ٹرین کے انجن میں بیٹھ کر دو اسٹیشن آگے گیا یہ دیکھنے کے لئے کہ کہیں بلوائیوں نے ریل کی لائن نہ خراب کردی ہو اس کا اطمینان کرلینے کیبعد رات 9 بجے دونوں ٹرینیں روانہ ہوئیں اور 23 نومبر کو بغیر کسی حادثہ کے قریب سے فاضل کا اسٹیشن پہنچ گئی اور پاکستان کی سرحد میں داخل ہوگئیں.

خان بہادر میجر محمد یٰسین خان ناغڑ کی کتاب قبیلہ ناغڑ سے اقتباس 

Status

میمن قومی موومنٹ پاکستان

سن 1965 کی جنگ سے کچھ پہلے ایک نہایت وضح دار اور بزرگ شخصیت میرے ہیڈکواٹر میں آئی_ انہوں نے شیروانی پہن رکھی تھی اور سر پر ترکی ٹوپی سجا رکھی تھی_ کہنے لگے میں نے برگیڈیر مٹھا سے ملنا ہے_ وہ میرے نانا کو جانتے تھے_ مجھ سے ملے تو کہنے لگے کہ میں بھی میمن ہوں اور بطور میمن جب میں نے سنا کہ آپ نہ صرف ایک بریگیڈ کی کمان کر رہے ہیں بلکہ پاکستان آرمی کی واحد کمانڈو یونٹ ایس ایس جی کی تشکیل بھی آپ ہی نے کی ہے تو اس پر مجھے بھی اور ساری میمن برادری کو بھی آپ پر فخر ہے_ انہوں نے مجھے کہا کہ اگلی بار جب میں چٹاگانگ آؤں تو ان سے ضرور ملوں کیونکہ وہاں کی تمام میمن برادری مجھ سے ملاقات کی از حد مشتاق ہے_ ان کی بزرگی, میرے نانا کے ساتھ ان کی زاتی دوستی اور اس باعث کے وہ چٹاگانگ سے چل کر مجھے ملنے کومیلا آئے تھے, میں نے حامی بھر لی کہ چٹاگانگ آنا ہوا تو ضرور ملاقات ہوگی_ وہ اپنا ایڈریس دے کر چلے گئے_ کچھ دنوں بعد میرا چٹاگانگ جانا ہوا تو میں نے انہیں فون کیا اور بتایا کہ میں فلاں فلاں دن آرہا ہوں اور آپ کو مل کر خوشی ہوگی_ جب میں چٹاگانگ پہنچا اور مقام معینہ پر گیا تو دیکھ کر حیران ہوگیا کہ وہ نہ صرف میمن برادری کی ایک سرکردہ شخصیت تھے بلکہ سارے مشرقی پاکستان کی میمن برادری کے سربراہ بھی تھے_ انہوں نے میرا نہایت پرتپاک استقبال کیا_ بہت بڑا ہجوم تھا جس نے میری آؤ بھگت کی اور پھولوں سے مجھے لاد دیا_ پھر ایک لمبی سی تقریر کی اور آخر میں مجھے کہا کہ آپ بھی دوچار لفظ ارشاد فرمائیں_ میں نے ایک مختصر سی تقریر کی جو میمنی زبان میں نہیں, اردو زبان میں تھی_ اس پر وہ بہت حیران ہوئے اور میری “ناموری” کچھ گہنا سی گئی_ یہ تمام کچھ میرے لئے خاصا پریشان کن تھا_ میں نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ آئندہ اس قسم کے جال میں نہیں پھنسو گا_ لیکن آئندہ اس بات کی نوبت ہی نہ آئی_ 1971ء کی جنگ کے بعد میری اس پاکستانی میمن برادری نے جب دیکھا کہ میں ذولفقار علی بھٹو اینڈ کمپنی کی نگاہوں میں قابل تکریم نہیں رہا تو انہوں نے مجھے یکایک اپنی نظروں سے گرادیا!

(میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا کی کتاب ” بمبئ سے جی ایچ کیو تک” سے اقتباس)

Status

احمد شاہ درّانی

بزرگان مکرم فخر کے قابل ہمارے ہیں
ہمارے آسماں کے چاند ہیں،سورج ہیں،تارےہیں

ہے احمد شاہ درانی کی شخصیت گراں مایہ
کہ افغانوں کی آزادی کا پرچم اس نے لہرایا

ہماری سرزمیں اغیار سے آزاد کی اس نے
پھر اپنے عدل سے وہ سرزمیں آباد کی اس نے

اسے صد فخر سے کہتے ہیں ہم “بابائے افغاناں”
عطا اس نے کیا اک ملک ہم کو صورت احساں

یہ کیفیت تھی اسکے دبدبے کی، صولت و شاں کی
کہ اس کے دم سے نیندیں اُڑگئیں تھیں ہند و ایراں کی

عدو ہیبت سے مر جاتے تھے جب فوجیں گزرتی تھیں
جدھر جاتا، فتوحات اس کا استقبال کرتی تھیں

زمین ہند و ایراں کی جہاں تک حدِ وسعت تھی
ہم افغانوں کی، ماضی میں وہاں تک بادشاہت تھی

ہے احمد شاہ درّانی کا ایک اک نقش تابندہ
رہے گا نام اس کا تاابد تاریخ میں زندہ

از پروفیسر ڈاکٹر عاصم کرنالیdurani

Status

سوئچ آن، سوئچ آف پالیسی

کراچی میں اپنے گھناونے مقاصد کی تکمیل کے لئے اسٹیبلشمنٹ ” سوئچ آن، سوئچ آف ” پالیسی پر اکثر عمل کرتی رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سوئچ آن ہونے پر اس کے ایجنٹوں نے کراچی میں قتل وغارت، دہشت گردی اور تخریب کاری کی کاروائیاں کیں اور شہر کے پر امن حالات کو خراب کیا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹوں کی کاروائیوں کے نتیجے میں حالات خراب ہوئے تو اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت اسٹیبلشمنٹ نے دنیا بھر میں کراچی کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تاکہ ان کو جواز بنا کر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ریاستی آپریشن شروع کیا جاسکے اور مہاجروں اور ان کے نمائندہ جماعت ایم کیو ایم کو صفحہ ہستی سے مٹایا جاسکے۔ جب اسٹیبلشمنٹ اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت حکیم سعید کے بہیمانہ قتل اور کراچی کے مخدوش امن و امان کے حالات کو بہانہ بنا کر ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو سندھ میں منتخب حکومت کا خاتمہ کرواکر گورنر راج نافذ کرنے اور سمری ملٹری کورٹس قائم کروانے میں کامیاب ہوگئی تو اس نے اپنا ” سوئچ آف ” کردیا۔ سوئچ آف ہوتے ہی یعنی اس کا اشارہ ملتے ہی اس کے تمام ایجنٹوں نے کراچی میں قتل و غارت، دہشت گردی اور تخریب کاری کی کاروائیاں بند کردیں اور اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے جس سے صورتحال میں تبدیلی آئی۔ صورتحال میں اس خود ساختہ تبدیلی کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ گورنر راج کے نفاذ سے شہر میں امن قائم ہوگیا ہے جبکہ صورتحال اس کے قطعی برعکس ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے خود ہی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کروائی اور اس کے اشارے پر دہشت کی کاروائیاں رک گئیں۔

Status

حضرت حاجب شہید شکر بار رحمتہ اللہ علیہ

حضرت حاجب شکر بار رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں کچھ علم نہیں کہ آپ کا سم گرامی کیا تھا۔ کس قوم، قبیلے اور خاندان سے ہیں کس سن میں آپکی شہادت واقع ہوئی۔ آپ کے حالات سوائے ایک کتاب ” صولت افغانی” تالیف زردار خانصاحب ناغڑ ساکن قرولیٰ اولیائے کرام کے کسی تزکرہ میں نہیں ملتے، اپ کی قبر کا ظہور ایک خواب کی  بناء پر ہوا تھا جس کی اجمالی کیفیت یہ ہے۔
۸۵۵ھ میں سلطان بہلول لودھی، دھلی کا بادشاہ ہوا جس نے تخت نشین ہوتے ہی ملک کی بدامنی اور فتنہ و فساد کو رفع کرنیکی غرض سے پٹھان امراء کو اطراف ملک میں بھیجا۔ اسی سلسلہ میں قبیلہ ناغڑ کے سردار یونس خان کو معہ جمیعت ناغڑ افغانان، نارنول اور اس کے اطراف میں روانہ کیا۔
جب سردار یونس خان متمروں اور سرکشوں کی گوشمالی کرتے ہوئے نرہڑ کے قریب پہنچے تو راجہ نرہڑ نے جو جوڑ راجپوت تھا بجائے اطاعت کرنیکے مقابلے پر آمادہ ہوا۔ ناغڑ پٹھانوں کے لشکر نے موضع دروڑ کی پہاڑی کے دامن میں اپنا کیمپ لگایا اور جنگ کے لئے تیار ہوکر نرہڑ پر حملہ آور ہوئے مقابلے میں راجہ نرہڑ بھی راجپوتوں کا لشکر تیار کرکے میدان میں صف آرا ہوگیا۔ کئی دن کی خونریز لڑائی کے باوجود جنگ کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو ناغڑ پٹھان فتح سے مایوس ہو کر دہلی کی واپسی کا ارادہ کرنے لگے، اسی شب سردار یونس خان نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ نورانی صورت بالین پر کھڑے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم اس وقت تک فتحیاب نہیں ہوگے، تاوقتیکہ میری قبر کو جو ریت کے ٹیلے کے اوپر درمیان کیر و جال ( کیر چند سال ہوئے خشک ہو کر نکل گیا، جال اب تک سرسبز و سفید ہے )  اور تمھارے اور راجپوتوں کے بیچ میں ہے کو اپنی پشت پر نہ لو گے اور فرمایا کہ میں اس مقام پر بہ زمانہ حضرت خواجہ معین الدین اجمیری شہید ہوا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ سلطان شہاب الدین غوری کے لشکر میں خود کو پوشیدہ رکھکر شوق شہادت میں شامل ہوئے، جس طرح حضرت شمس الدین ترک پانی پتی سلطاب بلبن کی فوج میں اور حضرت یوسف صاحب، شریف صاحب اورنگزیب کے لشکر میں خود کو پوشیدہ رکھکر بزمرہ سوران شامل رہے تھے. سلطان شہاب الدین غوری پرتھوی راج کو جنگ ترواڑی میں شکست دینے کے بعد ۸۵۵ھ ،۱۱۹۲ء میں ہانسی فتح کرتا ہوا اجمیر پر حملہ آور ہوا تھا غالب گمان یہ ہے کہ ہانسی سے سلطانی لشکر راجھستان کے اسی حصہ میں سے اجمیر گیا ہوگا اور سلطانی فوج کی کسی ٹکڑی سے جس میں حضرت حاجب شہید شامل تھے نرہڑ کے مقام پر راجپوتوں سے مقابلہ ہو گیا ہوگا جس میں آپ کی شہادت واقع ہوگئی ہوگی۔ واللہ اعلم۔
صبح کو بیدار ہوکر سردار یونس ناغڑ نے ناغڑ پٹھانوں کو جمع کرکے خواب کا حال بیان کیا اور متفقہ فیصلہ کیا کہ ہمیں ایک اور آخری کوشش کرنا چاہیئے دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ خواب کی بشارت نے ناغڑ پٹھانوں کے حوصلے بلند کردئیے تھے وہ دوسرے دن بڑے جوش و خروش کے ساتھ میدان جنگ میں نکلے اور بڑا ہی گھمسان کا رن پڑا، راجپوت بھی بڑی پامردی سے لڑے اور اپنی روایتی بہادری کا سچا مظاہرہ کیا مگر ناغڑ پٹھانوں کے بے پناہ حملوں نے راجپوتوں کے پاوں اُکھاڑ دیئے۔ ناغڑ پٹھانوں نے نعرہ ناغڑی کے ساتھ زوردار حملہ کرکے ریت کے ٹیلے کو اپنی پشت پر لے لیا اور شام ہوتے ہی راجپوتوں نے راہ فرار اختیار کی جس کے بعد نرہڑ پر ناغڑ پٹھانوں کا قبضہ ہوگیا۔
راجپوتوں کے واپسی حملے سے اطمینان کرنے کے بعد ناغڑ پٹھانوں نے ریت کے ٹیلے کو درمیان درخت کیر و جال (پیلو) کو کھودا تو حضرت کی قبر برآمد ہوئی اور خواب کی بشارت سچی ثابت ہونے پر صاحب قبر کی کرامت کا کامل یقین ہوگیا۔
نرہڑ پر تسلط ہونے کے بعد ناغڑ پٹھانوں نے حضرت حاجب شہید کا مزار، مسجد اور دیگر عمارات تعمیر کرائیں جاگے کی بہی میں حسب زیل تحریر موجود ہے۔
” س ۱۵۱۵ متی بیساکھ سری نومی بدھ وار نے یونس خانجی کا ملک تہیم خانجی، اسماعیل خانجی، گلاب خانجی کرایا، نرہڑ کا قلعہ بارہ دری کرائی، حاجب شہید کا مکان مسجد کرائی، گاوں سوں ترادی، ۲۵ گھوڑوں کا طویلہ دینا، دوہزار پانچ سو اکاون روپیہ دینا، لاڈوں کی ضیافت دینی، نرہڑ کے کھیڑے”۔
درگاہ شریف تعمیر کروانے کے بعد ضرورت درگاہ کے لئے موضع قاضی نون کے ایک بزرگ قاضی کریم الدین صاحب کو خدمت درگاہ پر معمور کیا اور مصارف درگاہ کے لئے ارضیات وقف کردیں۔
چونکہ بزرگ نے خواب میں خود کو شہید ہونے کا تو فرمایا تھا مگر نام ظاہر نہیں کیا اس وجہ سے ناغڑ پٹھانوں نے لڑائی میں فتح کی اطلاع دینے کی بناء پر ” حاجب ” نام رکھا اور “شہید” کا لقب نام کے ساتھ ملا کر ” حاجب شہید ” کہنے لگے اور بعد کے زما نے میں جبکہ ایک طاق سے شکر برسنے کی روایت مشہور ہوئی تو ” شکر بار ” کا لقب بھی آپ کے نام کا جُز ہوگیا (حاجب بادشاہوں کے دربار میں بہت معزز عہدہ ہوتا تھا کوئی شخص بلا توسط حاجب بادشاہ سے نہیں مل سکتا، کعبہ شریف کے کلید بردار کا لقب بھی ” حاجب ” ہے)
حضرت حاجب شہید شکر بار رحمتہ اللہ علیہ کی بڑی بافیض درگاہ ہے جس پر زائرین بلا تفریق مذہب و ملت عقیدتمندانہ حاضر ہوتے ہیں اور نذریں چڑھاتے ہیں آپ کے مزار مبارک سے روحانی تصرف جاری ہے۔ مایوس الاولاد، فاتر العقل، آسیب زدہ اور دیگر امراض کے مریض درگاہ شریف میں حاضر ہوکر اکثر بامراد جاتے ہیں۔ راجھستان کے علاوہ ہندوستان کے دوردراز مقامات سے اور پاکستان سے زائرین منت پوری کرنے کی غرض سے حاضر ہوتے ہیں۔
چونکہ آپ کی شہادت کی تاریخ نہیں معلوم اس وجہ سے آپ کا عرس نہیں منایا جاتا۔ فاتحہ کے لئے شروع زمانے ہی سے جمعرات کا دن مقرر ہے اس دن زائرین بکثرت حاضر ہوتے ہیں۔ یوں تو ہر مذہب اور ملت کے لوگوں کو حضرت حاجب شہید کی زات سے عقیدت ہے مگر قوم نیلگران کو ان سے بہت گہری عقیدت ہے یہ لوگ بڑی تعداد میں حاضر درگاہ ہوتے ہیں اور بڑی بڑی نزریں چڑھاتے ہیں اور اپنے بچوں کی شادی کے موقعہ پر ایک مخصوص رقم جسے یہ لوگ ” تھاما ” کہتے ہیں درگاہ کی نظر کرتے ہیں۔
اہل ہنود بھی بڑی تعداد میں درگاہ شریف میں حاضر ہوتے ہیں سیٹھ ساہوکار ہندوستان کے دوردراز مقامات سے منت پوری کرنے اور نزریں چڑھانے کو نرہڑ پہنچتے ہیں اہل ہنود میں حضرت حاجب شہید شکر بار کی کرامت کی شروع زمانے ہی سے شہرت اور عقیدت ہے جس کی روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ موضع قاضی نون کا ایک جاٹ نمبردار جو قاضی کریم الدین صاحب کا ملاقاتی تھا وہ قاضی صاحب سے ملنے کے لئے اکثر نرہڑ آیا کرتا تھا۔ جاٹ نمبر دار جو اولاد کی نعمت سے محروم تھا، ایک دن قاضی صاحب سے کہنے لگا کہ قاضی جی میں تو آپ کے حاجب شہید کو جب سچا ولی جانوں کہ میرے اولاد ہوجائے، قاضی کریم الدین صاحب نے جواب دیا کہ تم درگاہ شریف میں حاضر ہوکر دعا کیا کرو اللہ تمھاری مراد پوری کرے گا، چنانچہ جاٹ نمبردار درگاہ شریف میں حاضر ہونے لگا۔ قدرتِ خدا سے کچھ عرصے بعد جاٹ نمبردار کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا اور اولاد کا سلسلہ شروع ہوکر بہت سی اولادیں ہوئیں (اسی نمبردار کی اولاد کی ایک شاخ لوتیا گوہڑہ میں آج تک آباد ہے) جب پہلوتی کے لڑکے نے ہوش سنبھالا تو جاٹ نمبردار لڑکے کو قاضی کریم الدین صاحب کے پاس لایا اور کہا کہ قاضی جی میں نے منت مانی تھی کہ اگر میرے اولاد ہوئی تو پہلا لڑکا درگاہ کی خدمت کے لئے نذر کردوں گا لہذا آج سے یہ لڑکا آپ کا ہے۔ قاضی صاحب نے لڑکے کو مثل اولاد پرورش کیا اور اسلامی تعلیم دی جب لڑکا سن بلوغت کو پہنچا تو اس کی شادی اپنی لونڈی خورشید نامی لڑکی سے کردی اس واقع کا اہل ہنود میں بہت چرچا ہوا اور ان کے دلوں میں حاجب شہید کی عقیدت پیدا ہوئی۔
نواب علاوالدین خان ناغڑ جو ریاست نرہڑ کے تیسرے نواب تھے ان کے زمانے میں ایک مجرم حراست سے فرار ہوکر درگاہ شریف میں پناہ گزین ہوگیا جسے بپاس ادب درگاہ سپاہیوں نے گرفتار نہیں کیا اور اس امر کی اطلاع نواب صاحب کی خدمت میں عرض کردی۔ نواب صاحب نے حکم دیا کہ مجرم کو درگاہ شریف کے اندر سے گرفتار کرلیا جائے جس وقت سپاہی ملزم کو گرفتار کرکے درگاہ سے باہر لائے قدرت خدا سے اسی دم نواب صاحب کی حویلی کی چھت گری جسکے نیچے دب کر نواب صاحب کا ایک نوعمر لڑکا اور دو تین مستورات اور بچے دب کر مرگئے۔ نواب علاوالدین خان ناغڑ نے اس حادثہ کو حاجب شہید کی ناراضگی پر محمول کیا اور اس حادثہ کے بعد راجدہانی نرہڑ سے بگڑ منتقل کردی۔
یہ سعادت ناغڑ پٹھانوں کی قسمت میں تھی کہ ان کے زریعے حضرت حاجب شہید کی قبر کا ظہور ہوا اور آپکی بشارت سے جنگ نرہڑ میں ناغڑ پٹھانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ ناغڑ پٹھانوں کو حضرت حاجب شہید کی ذات سے والہانہ عقیدت ہے یہ لوگ آپ کو حاجب دادا کے نام سے یاد کرتے ہیں ناغڑ پٹھان ہند و پاک کے کسی حصہ میں آباد ہوں آپ کی نیاز و فاتحہ ضرور کرتے ہیں۔ بعض امراء اور صاحب استطاعت ناغڑ پٹھانوں نے درگاہ شریف ہر ہاتھی نذر کئے ہیں چنانچہ کرنول کے رئیس نامدار خان ناغڑ نے 1836ء میں دوفیل مادہ اتنے دوردراز فاصلے سے نذر کے لئے بھیجیں، وہ ناغڑ پٹھان جسے ہاتھی رکھنے کی استطاعت ہو وہ تاوقتیکہ پہلے ایک ہاتھی درگاہ شریف کی نذر نہ کردے ہاتھی ہر سواری نہیں کرتا۔ ناغڑ پٹھانوں کے بچے جب تک حضرت حاجب شہید کے مزار پر حاضر نہ ہولیں کسی دوسرے بزرگ کے مزار پر حاضر نہیں ہوتے ہیں درگاہ شریف پر نذر کی ہوئی کوئی چیز ناغڑ پٹھانوں کے گھروں میں واپس نہیں جاتی ہے۔
درگاہ شریف کی عمارات:
حضرت حاجب شہید شکر بار رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک اور مسجد ناغڑ پٹھانوں نے ۱۵۱۵ مکرمی میں تعمیر کیں۔ مزار سے ملحق موجودہ مسجد اور مزار شریف کے سامنے کا چھوٹا دروازہ امام بخش خان ناغڑ سکنہ کھوڈانو نے ۱۸۲۶ء میں تعمیر کرائے۔ مشرقی رخ کے دالان نواب احمد بخش خان والئے ریاست لوہارو نے زاہرین کے قیام کے لئے تعمیر کرائے۔ (ان پر کتبہ نہیں ہے) مغربی رخ کا ایک دالان سید احمد ساکن قصبہ کھیرنل ریاست الور ناظم شیخاوتی نے ۱۸۶۴ء میں تعمیر کرایا، درگاہ شریف کا صدر دروازہ ہٹوا کر نول سنگھ رئیس نول گڈھ اور شیخاوت راجپوتوں نے ۱۸۲۱ مکرمی میں تعمیر کرایا، درگاہ شریف سے باہر کنوئیں کے مغربی جانب نیلگران نے چند کمرے تعمیر کراکے زائرین کے قیام کے لئے درگاہ شریف کے نام وقف کردئیے ہیں ایک نامکمل عمارت جسے تقسیم سے پہلے جمعدار شیخ جعفر علی کے لڑکوں نے تعمیر کرنا شروع کی تھی جسے وہ نامکمل چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تھے درگاہ کمیٹی نے شری رام لال ساکن دہلی سے جسے مذکورہ عمارت کلیم میں محکمہ کسٹوڈیں سے ملی تھی خرید کر درگاہ شریف کی عمارت میں شامل کردی ہے۔ عیدگاہ جو درگاہ شریف سے مشرق کی جانب دوسوگز کے فاصلے پر ہے اسے مسلمانان نرہڑ نے تعمیر کروائی تھی۔ تقسیم ملک سے پہلے خدام کی بڑی تعداد تھی اور ترکوں کا بڑا محلہ تھا جس کے مکانات جو زیادہ تر خس پوش تھے منہدم ہوگئے ہیں صرف ترکوں کی مسجد کھڑی ہے جو نمازیوں کی منتظر ہے اور ناغڑ پٹھانوں کی تعمیر کرائی ہوئی مسجد جو قلعہ کے اندر ہے وہ بھی غیرآباد ہے۔
آمدنی درگاہ:
مصارف درگاہ کے لئے دوہزار ایک سو چھیاسٹھ بیگھ زمین خام جسے اول پٹھان نوابوں نے اور بعد سرداران پنج پا نے وقف کیں اس زمیں کا کچھ حصہ محکمہ کسٹوڈین نے ضبظ کرلیا ہے کاشت کی اس وقف زمین کا ایک فیصلہ ریاست کھنیڑی کے ایک انگریز منتظم مسٹر کرول نے کیا تھا اس فیصلے کی تصدیق جملہ سرداران پنج پا نے کردی تھی۔
ریاست لوہارو کی جانب سے موضع سرسی کی مالگزاری سے ساڑھے چار سو روپے سالانہ درگاہ شریف کے نام وقف ہے جسے تقسیم ملک کے بعد اول حکومت پنجاب اور بعد میں حکومت ہریانہ نے ضبط کرلی اور تاحال واگزاشت نہیں کی ہے۔
موجودہ آمدنی بشمول روزمرہ کا نذرانہ، ماہ بھادوں کے میلے کی آمدنی اور شب معراج کے جلسے کی نظر چالیس پچاس ہزار روپے سالانہ ہوتی ہے جسمیں سے حسب فیصلہ ڈسٹرک ججی جھنجونو نو آنہ مصارف درگاہ اور سات آنے فی روپیہ خدام کو ان کا مورثی حصہ اور بعض کو حق الخدمت دیا جاتا ہے۔
میلہ:
درگاہ شریف میں ہرسال ماہ بھادوں کی ۸ تاریخ کو میلہ لگتا ہے جس میں زائرین بلاتفریق و مزہب و ملت شرکت کرتے ہیں اور درگاہ شریف پر نظریں چڑھاتے ہیں جسکی تین چار ہزار روپیہ کے درمیان آمدنی ہوجاتی ہے۔ میلہ کے موقع پر تین دن تک یعنی ماہ بھادوں کی ۶،۷ اور ۸ تاریخ تک بڑی دھوم دھام رہتی ہے اور بہت رونق ہوتی ہے۔ اب نیلگران کی مالی امداد سے کنوئیں میں بجلی کا انجن اور درگاہ شریف میں پانی کے نل لگائے گئے ہیں نیز مکانات میں بجلی لگ گئی ہے میلے کے زائرین کو پانی اور روشنی کی قلت محسوس نہیں ہوتی ہے۔
خدام درگاہ:
تقسیم ملک سے پہلے خدام کی بڑی تعداد تھی آمدنی درگاہ میں حصہ پانے والے ایک سو چار خادم تھے اب صرف سات حصہ دار ہیں اور دو حق الخدمت پانے والے باقی ہیں یہی خادم خدمت درگاہ بجا لاتے ہیں ماہ مارچ ۱۹۴۸ء میں درگاہ کے جملہ خادم جبکہ ملک میں بدامنی تھی درگاہ شریف کو بے حفاظت چھوڑ کر جسکی حفاظت ان کا فرض تھا پاکستان چلے گئے یہ تو حضرت حاجب شہید کا روحانی تصرف تھا کہ نہ تو درگاہ شریف کو نقصان پہنچا اور نہ بے حرمتی ہوئی ورنہ خدام نے تو اپنا فرض پورا کرنے میں پوری کوتاہی کی تھی۔ خدام کے پاکستان چلے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے حفاظت درگاہ کا قابل انتظام ہوگیا ہے پاکستان جانے والے خدام میں سے تین چار خادم اپنے اہل و عیال کو پاکستان چھوڑ کر واپس آگئے اور چند خدام جو بسلسلہ ملازمت جے پور وغیرہ میں تھے درگاہ میں پہنچ گئے۔
درگاہ شریف کے خدام کی دو شاخیں ہیں ایک قاضی کریم الدین صاحب کی اولاد ہیں اور دوسری شیخ نظام الدین صاحب کی اولاد ہیں۔ قاضی کریم الدین صاحب کا سلسلہ نسب ۲۱ واسطوں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر منتہی ہوتا ہے۔ قاضی کریم الدین صاحب کے ایک فرزند حضرت حمزہ صاحب ولی گزرے ہیں جن کا مزار موضع دہرسوں نزد نارنول میں ہے۔
درگاہ کمیٹی:
۱۹۵۹ء سے پہلے درگاہ شریف میں بہت بدانتظامی تھی خدام من مانی کاروائی کرتے تھے اور تقاسمہ آمدنی پر آپس میں دست و گریباں رہتے تھے درگاہ شریف کی مرمت وغیرہ اور زائرین کے آرام اور ضروریات کا کوئی خیال نہیں رکھتے تھے آخر زیر دفعہ ۹۲ تعزیرات ہند ڈسٹرک ججی جھنجہنو میں مقدمہ دائر ہوکر آمدنی درگاہ کے مصارف کا تعین کردیا گیا اور انتظام درگاہ کے لئے پانچ آدمیوں کی ایک کمیٹی مقرر کردی گئی جو تین سال بعد تبدیل کردی جاتی ہے۔ ڈسٹرک ججی کے اس فیصلے کے تصدیق راجھستان ہائیکورٹ سے بھی ہوگئی ہے اب درگاہ کا انتظام اور تقاسمہ آمدنی مزکورہ کمیٹی کرتی ہے۔
خان بہادر میجر محمد یسٰین خان  کی کتاب ” قبیلہ ںاغڑ ” سے اقتباس

Status