یہ گڑیانی ہے

قوموں کے لئے موت ہے مرکز سے جدائی

ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے خدائی

اقبال کا یہ شعر گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں پر جیسا صادق آیا اس سے پہلے شاید ہی کسی قوم یا قبیلہ پر آیا ہوگا یوں تو اس سے پہلے ہی ہمارا بدقسمت قبیلہ اپنی اجتماعی قوت کھو چکا تھا مگر تقسیم ملک کی ضرب کاری نے تو ناغڑوں کے شیرازہ کو بکھیرنے کی تکمیل ہی کردی. گڑیانی جو معہ اپنے پانچ گاؤں کے اپنی اجتماعی, اقتصادی, معاشی اور سیاسی حالت کو مضبوط کئے بیٹھے تھے اور ریاست کرولی میں ان کے بھائی ایک جگہ ریاست میں بڑی شان سے رہ رہے تھے وہ بھی منتشر ہوگئے غرض یہ کہ شیخاوتی میں جو ناغڑ پٹھانوں کا مرکز ہے وہاں سے اودھ اور دکن تک تمام ناغڑوں پر زلزلہ آگیا اور سب اپنی اپنی جگہوں پر ہل گئے مگر گڑیانی کو جو صدمہ سہنا پڑا وہ سب سے زیادہ تھا. جب انگریز کو اس امر کا یقین ہوگیا کہ اب ہندوستان میں ان کے قدم جمنا ناممکن ہیں تو انہوں نے انتقام کے لئے اپنا پرانا ہتھیار استعمال کرکے انتقام لیا اور خوب لیا کہ اپنی سیاسی چالوں سے ہندو اور مسلمانوں کے دلوں میں نفاق کا ایسا بیج بویا جو کئی صدیوں تک سرسبز رہیگا وہ اپنے ایک سپاہی کا خون گرائے بغیر ہندو,مسلمانوں کے دس لاکھ افراد کا ایک دوسرے کے ہاتھوں خون بہا گئے.

جب گڑگاؤں کے ضلع میں فساد شروع ہوئے اور ڈپٹی کمشنر نے جو ایک انگریز تھا فسادات روکنے کی جانب کوئی توجہ نہیں کی تو گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں نے خیال کیا کہ فسادات کی لپیٹ ان تک بھی نہ پہنچ جائے تو انہوں نے بڑی دانشمندی سے اپنے قرب و جوار کے بھائیوں کے پانچوں گاؤں کو گڑیانی میں لے آئے ان کے علاوہ تقریباََ دو ہزار میو رانگڑ اور پست اقوام کے افراد گڑیانی میں پناہ گزین تھے جن کی حفاظت اور روزمرہ کی ضروریات بھی گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی انہیں ایام میں پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں پنڈت جواہر لال نہرو وزیراعظم ہندوستان کو گڑیانی کے مسلمانوں کی حفاظت کی جانب توجہ مبذول کروائی جس کا فوری اثر ہوا اور پنڈت جواہر لال نہرو نے کماؤں رجمنٹ کے سپاہیوں کا ایک دستہ ایک صوبیدار اور نائب صوبیدار کی ماتحتی میں گڑیانی کے مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر گڑیانی بھیجدیا اور اسی دستہ کو گڑیانی کے مسلمانوں کو اپنی حفاظت میں پاکستان پہونچانے کا فرض بھی سپرد کیا گیا. کچھ تو حکومت ہند کی فوری توجہ کی وجہ سے اور کچھ مقامی حکام مثل دہلی سپرنٹنڈٹ پولیس اور تھانیدار جو کہ دونوں سکھ تھے کی اپنے فرائض کو ایمانداری سے انجام دینے کے سبب گڑیانی میں امن و امان رہا. اس کے علاوہ قرب و جوار کے ہندو بھائیوں نے بھی کوئی مخمصانہ کاروائی نہیں کی وہ دوستانہ طور پر گڑیانی میں آتے جاتے رہے اور ملتے جلتے رہے حتی کہ کوسلی جو اسیر قوم کی بڑی بستی تھی اور گڑیانی سے صرف چار میل کے فاصلہ پر ہے نیز بلوائیوں کا مرکز بھی کوسلی میں تھا جہاں سے بلوائیوں کو راشن تقسیم ہوتا تھا انہوں نے بھی گڑیانی کے خلاف کوئی حرکت نہیں کی اور ہر طرح کا امن و امان رہا.

جب ہند و پاکستان ہر دو حکومتوں کے درمیان اس امر کا قطعی فیصلہ ہوگیا کہ تبادلہ آبادی کے سلسلہ میں مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو پاکستان جانا ہوگا جس پر گڑیانی کے سربرآوردہ پٹھانوں نے حکومت ہند, پنڈت جواہر لال نہرو, گورنر پنجاب اور ڈپٹی کمشنر رہتک کی خدمت میں درخواستیں اور تار دیئے کہ ہم اپنا وطن عزیز چھوڑ کر پاکستان جانا نہیں چاہتے مگر حکومتوں کے فیصلوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں کی درخواستوں پر کوئی شنوائی نہیں کی گئی.

آخر کار 21 نومبر 1947ء کو گڑیانی کی کل آبادی دو ٹرینوں کے زریعے کماؤں رجمنٹ کی کمپنی کی حفاظت میں باچشم گریاں اور سینہ بریاں ایک اسٹیشن کے فاصلہ سے پاکستان کی جانب روانہ ہوئے. روانگی کا منظر بڑا دردناک تھا ہر شخص کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور غم سے سینے پھٹے جارہے تھے اور چہروں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پاکستان نہیں پھانسی کے تختہ پر جارہے ہوں. انسان کے لئے اس سے بڑھ کر دوسری مصیبت نہیں کہ اس کا گھر بار اس سے چھڑایا جائے.

گاڑی جس اسٹیشن پر ٹہرتی وہاں اسٹیشن کے ہر جانب سے یہی صدا آتی کہ یہ گڑیانی ہے چنانچہ بہواتی, ہاتھی, حصار اور ہٹنڈہ پر یہی فقرے کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ گڑیانی ہے. معلوم ہوتا تھا کہ راستہ کے تمام مقامات پر پہلے ے خبر کردی گئی تھی مگر ہندوستانی فوج کا دستہ اپنا فرض کماحقہ ادا کررہا تھا اس وجہ سے راستہ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا. جب ٹرین کورٹ کورہ سے چار میل کے فاصلہ پر پہونچی تو ٹرین کھڑی ہوگئی اور ڈرائیور انجن کو ٹرین سے جدا کرکے کورٹ کپورہ کے اسٹیشن پر لے گیا. اسی عرصہ میں دوسری ٹرین بھی پہنچ گئی. انجن ڈرائیور کے کورٹ کپورہ پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد بلوائیوں کی ایک بڑی جماعت لاریوں میں بیٹھ کر ٹرینوں کے کھڑے ہونے کی جگہ پہنچی جو کہ ٹرینوں پر حملہ کرنے کی غرض سے آئی تھی جس کا انتظام پہلے سے کرلیا گیا تھا. بلوائیوں کا لیڈر جو ایک فوجی افسر معلوم ہوتا تھا فوج کے حفاظتی دستہ کے صوبیدار سے کچھ عرصہ گفتگو کرتا رہا غالباََ صوبیدار کو ساتھ ملانا چاہتا تھا مگر صوبیدار اور نائب صوبیدار جو نہایت ایماندار اور اپنے فرض کے پابند تھے انہوں نے فوراََ اپنے فوجی دستہ کو ہتھیار سنبھال کر حفاظت کے لئے تیار کردیا. صوبیدار نے بلوائیوں کے لیڈر کو صاف جواب دے دیا کہ پہلے ہم اور ہمارا فوجی دستہ ختم ہوگا اسکے بعد ہی کوئی شخص ٹرین کے نزدیک آسکے گا بلوائیوں کا لیڈر یہ سن کر مایوسی کی حالت میں واپس چلاگیا جسکے چلے جانے کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ صوبیدار نے بلوائیوں کے لیڈر کو یہ بھی کہدیا تھا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو میں پاکستان کو جس کی سرحد بہت قریب ہے. وائرلیس کے زریعے پاکستانی فوج طلب کرلوں گا. صوبیدار مزکورہ ٹرین کے انجن میں بیٹھ کر دو اسٹیشن آگے گیا یہ دیکھنے کے لئے کہ کہیں بلوائیوں نے ریل کی لائن نہ خراب کردی ہو اس کا اطمینان کرلینے کیبعد رات 9 بجے دونوں ٹرینیں روانہ ہوئیں اور 23 نومبر کو بغیر کسی حادثہ کے قریب سے فاضل کا اسٹیشن پہنچ گئی اور پاکستان کی سرحد میں داخل ہوگئیں.

خان بہادر میجر محمد یٰسین خان ناغڑ کی کتاب قبیلہ ناغڑ سے اقتباس 

Advertisements
Status