میمن قومی موومنٹ پاکستان

سن 1965 کی جنگ سے کچھ پہلے ایک نہایت وضح دار اور بزرگ شخصیت میرے ہیڈکواٹر میں آئی_ انہوں نے شیروانی پہن رکھی تھی اور سر پر ترکی ٹوپی سجا رکھی تھی_ کہنے لگے میں نے برگیڈیر مٹھا سے ملنا ہے_ وہ میرے نانا کو جانتے تھے_ مجھ سے ملے تو کہنے لگے کہ میں بھی میمن ہوں اور بطور میمن جب میں نے سنا کہ آپ نہ صرف ایک بریگیڈ کی کمان کر رہے ہیں بلکہ پاکستان آرمی کی واحد کمانڈو یونٹ ایس ایس جی کی تشکیل بھی آپ ہی نے کی ہے تو اس پر مجھے بھی اور ساری میمن برادری کو بھی آپ پر فخر ہے_ انہوں نے مجھے کہا کہ اگلی بار جب میں چٹاگانگ آؤں تو ان سے ضرور ملوں کیونکہ وہاں کی تمام میمن برادری مجھ سے ملاقات کی از حد مشتاق ہے_ ان کی بزرگی, میرے نانا کے ساتھ ان کی زاتی دوستی اور اس باعث کے وہ چٹاگانگ سے چل کر مجھے ملنے کومیلا آئے تھے, میں نے حامی بھر لی کہ چٹاگانگ آنا ہوا تو ضرور ملاقات ہوگی_ وہ اپنا ایڈریس دے کر چلے گئے_ کچھ دنوں بعد میرا چٹاگانگ جانا ہوا تو میں نے انہیں فون کیا اور بتایا کہ میں فلاں فلاں دن آرہا ہوں اور آپ کو مل کر خوشی ہوگی_ جب میں چٹاگانگ پہنچا اور مقام معینہ پر گیا تو دیکھ کر حیران ہوگیا کہ وہ نہ صرف میمن برادری کی ایک سرکردہ شخصیت تھے بلکہ سارے مشرقی پاکستان کی میمن برادری کے سربراہ بھی تھے_ انہوں نے میرا نہایت پرتپاک استقبال کیا_ بہت بڑا ہجوم تھا جس نے میری آؤ بھگت کی اور پھولوں سے مجھے لاد دیا_ پھر ایک لمبی سی تقریر کی اور آخر میں مجھے کہا کہ آپ بھی دوچار لفظ ارشاد فرمائیں_ میں نے ایک مختصر سی تقریر کی جو میمنی زبان میں نہیں, اردو زبان میں تھی_ اس پر وہ بہت حیران ہوئے اور میری “ناموری” کچھ گہنا سی گئی_ یہ تمام کچھ میرے لئے خاصا پریشان کن تھا_ میں نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ آئندہ اس قسم کے جال میں نہیں پھنسو گا_ لیکن آئندہ اس بات کی نوبت ہی نہ آئی_ 1971ء کی جنگ کے بعد میری اس پاکستانی میمن برادری نے جب دیکھا کہ میں ذولفقار علی بھٹو اینڈ کمپنی کی نگاہوں میں قابل تکریم نہیں رہا تو انہوں نے مجھے یکایک اپنی نظروں سے گرادیا!

(میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا کی کتاب ” بمبئ سے جی ایچ کیو تک” سے اقتباس)

Advertisements
Status