حضرت حاجب شہید شکر بار رحمتہ اللہ علیہ

حضرت حاجب شکر بار رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں کچھ علم نہیں کہ آپ کا سم گرامی کیا تھا۔ کس قوم، قبیلے اور خاندان سے ہیں کس سن میں آپکی شہادت واقع ہوئی۔ آپ کے حالات سوائے ایک کتاب ” صولت افغانی” تالیف زردار خانصاحب ناغڑ ساکن قرولیٰ اولیائے کرام کے کسی تزکرہ میں نہیں ملتے، اپ کی قبر کا ظہور ایک خواب کی  بناء پر ہوا تھا جس کی اجمالی کیفیت یہ ہے۔
۸۵۵ھ میں سلطان بہلول لودھی، دھلی کا بادشاہ ہوا جس نے تخت نشین ہوتے ہی ملک کی بدامنی اور فتنہ و فساد کو رفع کرنیکی غرض سے پٹھان امراء کو اطراف ملک میں بھیجا۔ اسی سلسلہ میں قبیلہ ناغڑ کے سردار یونس خان کو معہ جمیعت ناغڑ افغانان، نارنول اور اس کے اطراف میں روانہ کیا۔
جب سردار یونس خان متمروں اور سرکشوں کی گوشمالی کرتے ہوئے نرہڑ کے قریب پہنچے تو راجہ نرہڑ نے جو جوڑ راجپوت تھا بجائے اطاعت کرنیکے مقابلے پر آمادہ ہوا۔ ناغڑ پٹھانوں کے لشکر نے موضع دروڑ کی پہاڑی کے دامن میں اپنا کیمپ لگایا اور جنگ کے لئے تیار ہوکر نرہڑ پر حملہ آور ہوئے مقابلے میں راجہ نرہڑ بھی راجپوتوں کا لشکر تیار کرکے میدان میں صف آرا ہوگیا۔ کئی دن کی خونریز لڑائی کے باوجود جنگ کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو ناغڑ پٹھان فتح سے مایوس ہو کر دہلی کی واپسی کا ارادہ کرنے لگے، اسی شب سردار یونس خان نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ نورانی صورت بالین پر کھڑے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم اس وقت تک فتحیاب نہیں ہوگے، تاوقتیکہ میری قبر کو جو ریت کے ٹیلے کے اوپر درمیان کیر و جال ( کیر چند سال ہوئے خشک ہو کر نکل گیا، جال اب تک سرسبز و سفید ہے )  اور تمھارے اور راجپوتوں کے بیچ میں ہے کو اپنی پشت پر نہ لو گے اور فرمایا کہ میں اس مقام پر بہ زمانہ حضرت خواجہ معین الدین اجمیری شہید ہوا تھا۔ اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ سلطان شہاب الدین غوری کے لشکر میں خود کو پوشیدہ رکھکر شوق شہادت میں شامل ہوئے، جس طرح حضرت شمس الدین ترک پانی پتی سلطاب بلبن کی فوج میں اور حضرت یوسف صاحب، شریف صاحب اورنگزیب کے لشکر میں خود کو پوشیدہ رکھکر بزمرہ سوران شامل رہے تھے. سلطان شہاب الدین غوری پرتھوی راج کو جنگ ترواڑی میں شکست دینے کے بعد ۸۵۵ھ ،۱۱۹۲ء میں ہانسی فتح کرتا ہوا اجمیر پر حملہ آور ہوا تھا غالب گمان یہ ہے کہ ہانسی سے سلطانی لشکر راجھستان کے اسی حصہ میں سے اجمیر گیا ہوگا اور سلطانی فوج کی کسی ٹکڑی سے جس میں حضرت حاجب شہید شامل تھے نرہڑ کے مقام پر راجپوتوں سے مقابلہ ہو گیا ہوگا جس میں آپ کی شہادت واقع ہوگئی ہوگی۔ واللہ اعلم۔
صبح کو بیدار ہوکر سردار یونس ناغڑ نے ناغڑ پٹھانوں کو جمع کرکے خواب کا حال بیان کیا اور متفقہ فیصلہ کیا کہ ہمیں ایک اور آخری کوشش کرنا چاہیئے دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ خواب کی بشارت نے ناغڑ پٹھانوں کے حوصلے بلند کردئیے تھے وہ دوسرے دن بڑے جوش و خروش کے ساتھ میدان جنگ میں نکلے اور بڑا ہی گھمسان کا رن پڑا، راجپوت بھی بڑی پامردی سے لڑے اور اپنی روایتی بہادری کا سچا مظاہرہ کیا مگر ناغڑ پٹھانوں کے بے پناہ حملوں نے راجپوتوں کے پاوں اُکھاڑ دیئے۔ ناغڑ پٹھانوں نے نعرہ ناغڑی کے ساتھ زوردار حملہ کرکے ریت کے ٹیلے کو اپنی پشت پر لے لیا اور شام ہوتے ہی راجپوتوں نے راہ فرار اختیار کی جس کے بعد نرہڑ پر ناغڑ پٹھانوں کا قبضہ ہوگیا۔
راجپوتوں کے واپسی حملے سے اطمینان کرنے کے بعد ناغڑ پٹھانوں نے ریت کے ٹیلے کو درمیان درخت کیر و جال (پیلو) کو کھودا تو حضرت کی قبر برآمد ہوئی اور خواب کی بشارت سچی ثابت ہونے پر صاحب قبر کی کرامت کا کامل یقین ہوگیا۔
نرہڑ پر تسلط ہونے کے بعد ناغڑ پٹھانوں نے حضرت حاجب شہید کا مزار، مسجد اور دیگر عمارات تعمیر کرائیں جاگے کی بہی میں حسب زیل تحریر موجود ہے۔
” س ۱۵۱۵ متی بیساکھ سری نومی بدھ وار نے یونس خانجی کا ملک تہیم خانجی، اسماعیل خانجی، گلاب خانجی کرایا، نرہڑ کا قلعہ بارہ دری کرائی، حاجب شہید کا مکان مسجد کرائی، گاوں سوں ترادی، ۲۵ گھوڑوں کا طویلہ دینا، دوہزار پانچ سو اکاون روپیہ دینا، لاڈوں کی ضیافت دینی، نرہڑ کے کھیڑے”۔
درگاہ شریف تعمیر کروانے کے بعد ضرورت درگاہ کے لئے موضع قاضی نون کے ایک بزرگ قاضی کریم الدین صاحب کو خدمت درگاہ پر معمور کیا اور مصارف درگاہ کے لئے ارضیات وقف کردیں۔
چونکہ بزرگ نے خواب میں خود کو شہید ہونے کا تو فرمایا تھا مگر نام ظاہر نہیں کیا اس وجہ سے ناغڑ پٹھانوں نے لڑائی میں فتح کی اطلاع دینے کی بناء پر ” حاجب ” نام رکھا اور “شہید” کا لقب نام کے ساتھ ملا کر ” حاجب شہید ” کہنے لگے اور بعد کے زما نے میں جبکہ ایک طاق سے شکر برسنے کی روایت مشہور ہوئی تو ” شکر بار ” کا لقب بھی آپ کے نام کا جُز ہوگیا (حاجب بادشاہوں کے دربار میں بہت معزز عہدہ ہوتا تھا کوئی شخص بلا توسط حاجب بادشاہ سے نہیں مل سکتا، کعبہ شریف کے کلید بردار کا لقب بھی ” حاجب ” ہے)
حضرت حاجب شہید شکر بار رحمتہ اللہ علیہ کی بڑی بافیض درگاہ ہے جس پر زائرین بلا تفریق مذہب و ملت عقیدتمندانہ حاضر ہوتے ہیں اور نذریں چڑھاتے ہیں آپ کے مزار مبارک سے روحانی تصرف جاری ہے۔ مایوس الاولاد، فاتر العقل، آسیب زدہ اور دیگر امراض کے مریض درگاہ شریف میں حاضر ہوکر اکثر بامراد جاتے ہیں۔ راجھستان کے علاوہ ہندوستان کے دوردراز مقامات سے اور پاکستان سے زائرین منت پوری کرنے کی غرض سے حاضر ہوتے ہیں۔
چونکہ آپ کی شہادت کی تاریخ نہیں معلوم اس وجہ سے آپ کا عرس نہیں منایا جاتا۔ فاتحہ کے لئے شروع زمانے ہی سے جمعرات کا دن مقرر ہے اس دن زائرین بکثرت حاضر ہوتے ہیں۔ یوں تو ہر مذہب اور ملت کے لوگوں کو حضرت حاجب شہید کی زات سے عقیدت ہے مگر قوم نیلگران کو ان سے بہت گہری عقیدت ہے یہ لوگ بڑی تعداد میں حاضر درگاہ ہوتے ہیں اور بڑی بڑی نزریں چڑھاتے ہیں اور اپنے بچوں کی شادی کے موقعہ پر ایک مخصوص رقم جسے یہ لوگ ” تھاما ” کہتے ہیں درگاہ کی نظر کرتے ہیں۔
اہل ہنود بھی بڑی تعداد میں درگاہ شریف میں حاضر ہوتے ہیں سیٹھ ساہوکار ہندوستان کے دوردراز مقامات سے منت پوری کرنے اور نزریں چڑھانے کو نرہڑ پہنچتے ہیں اہل ہنود میں حضرت حاجب شہید شکر بار کی کرامت کی شروع زمانے ہی سے شہرت اور عقیدت ہے جس کی روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ موضع قاضی نون کا ایک جاٹ نمبردار جو قاضی کریم الدین صاحب کا ملاقاتی تھا وہ قاضی صاحب سے ملنے کے لئے اکثر نرہڑ آیا کرتا تھا۔ جاٹ نمبر دار جو اولاد کی نعمت سے محروم تھا، ایک دن قاضی صاحب سے کہنے لگا کہ قاضی جی میں تو آپ کے حاجب شہید کو جب سچا ولی جانوں کہ میرے اولاد ہوجائے، قاضی کریم الدین صاحب نے جواب دیا کہ تم درگاہ شریف میں حاضر ہوکر دعا کیا کرو اللہ تمھاری مراد پوری کرے گا، چنانچہ جاٹ نمبردار درگاہ شریف میں حاضر ہونے لگا۔ قدرتِ خدا سے کچھ عرصے بعد جاٹ نمبردار کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا اور اولاد کا سلسلہ شروع ہوکر بہت سی اولادیں ہوئیں (اسی نمبردار کی اولاد کی ایک شاخ لوتیا گوہڑہ میں آج تک آباد ہے) جب پہلوتی کے لڑکے نے ہوش سنبھالا تو جاٹ نمبردار لڑکے کو قاضی کریم الدین صاحب کے پاس لایا اور کہا کہ قاضی جی میں نے منت مانی تھی کہ اگر میرے اولاد ہوئی تو پہلا لڑکا درگاہ کی خدمت کے لئے نذر کردوں گا لہذا آج سے یہ لڑکا آپ کا ہے۔ قاضی صاحب نے لڑکے کو مثل اولاد پرورش کیا اور اسلامی تعلیم دی جب لڑکا سن بلوغت کو پہنچا تو اس کی شادی اپنی لونڈی خورشید نامی لڑکی سے کردی اس واقع کا اہل ہنود میں بہت چرچا ہوا اور ان کے دلوں میں حاجب شہید کی عقیدت پیدا ہوئی۔
نواب علاوالدین خان ناغڑ جو ریاست نرہڑ کے تیسرے نواب تھے ان کے زمانے میں ایک مجرم حراست سے فرار ہوکر درگاہ شریف میں پناہ گزین ہوگیا جسے بپاس ادب درگاہ سپاہیوں نے گرفتار نہیں کیا اور اس امر کی اطلاع نواب صاحب کی خدمت میں عرض کردی۔ نواب صاحب نے حکم دیا کہ مجرم کو درگاہ شریف کے اندر سے گرفتار کرلیا جائے جس وقت سپاہی ملزم کو گرفتار کرکے درگاہ سے باہر لائے قدرت خدا سے اسی دم نواب صاحب کی حویلی کی چھت گری جسکے نیچے دب کر نواب صاحب کا ایک نوعمر لڑکا اور دو تین مستورات اور بچے دب کر مرگئے۔ نواب علاوالدین خان ناغڑ نے اس حادثہ کو حاجب شہید کی ناراضگی پر محمول کیا اور اس حادثہ کے بعد راجدہانی نرہڑ سے بگڑ منتقل کردی۔
یہ سعادت ناغڑ پٹھانوں کی قسمت میں تھی کہ ان کے زریعے حضرت حاجب شہید کی قبر کا ظہور ہوا اور آپکی بشارت سے جنگ نرہڑ میں ناغڑ پٹھانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ ناغڑ پٹھانوں کو حضرت حاجب شہید کی ذات سے والہانہ عقیدت ہے یہ لوگ آپ کو حاجب دادا کے نام سے یاد کرتے ہیں ناغڑ پٹھان ہند و پاک کے کسی حصہ میں آباد ہوں آپ کی نیاز و فاتحہ ضرور کرتے ہیں۔ بعض امراء اور صاحب استطاعت ناغڑ پٹھانوں نے درگاہ شریف ہر ہاتھی نذر کئے ہیں چنانچہ کرنول کے رئیس نامدار خان ناغڑ نے 1836ء میں دوفیل مادہ اتنے دوردراز فاصلے سے نذر کے لئے بھیجیں، وہ ناغڑ پٹھان جسے ہاتھی رکھنے کی استطاعت ہو وہ تاوقتیکہ پہلے ایک ہاتھی درگاہ شریف کی نذر نہ کردے ہاتھی ہر سواری نہیں کرتا۔ ناغڑ پٹھانوں کے بچے جب تک حضرت حاجب شہید کے مزار پر حاضر نہ ہولیں کسی دوسرے بزرگ کے مزار پر حاضر نہیں ہوتے ہیں درگاہ شریف پر نذر کی ہوئی کوئی چیز ناغڑ پٹھانوں کے گھروں میں واپس نہیں جاتی ہے۔
درگاہ شریف کی عمارات:
حضرت حاجب شہید شکر بار رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک اور مسجد ناغڑ پٹھانوں نے ۱۵۱۵ مکرمی میں تعمیر کیں۔ مزار سے ملحق موجودہ مسجد اور مزار شریف کے سامنے کا چھوٹا دروازہ امام بخش خان ناغڑ سکنہ کھوڈانو نے ۱۸۲۶ء میں تعمیر کرائے۔ مشرقی رخ کے دالان نواب احمد بخش خان والئے ریاست لوہارو نے زاہرین کے قیام کے لئے تعمیر کرائے۔ (ان پر کتبہ نہیں ہے) مغربی رخ کا ایک دالان سید احمد ساکن قصبہ کھیرنل ریاست الور ناظم شیخاوتی نے ۱۸۶۴ء میں تعمیر کرایا، درگاہ شریف کا صدر دروازہ ہٹوا کر نول سنگھ رئیس نول گڈھ اور شیخاوت راجپوتوں نے ۱۸۲۱ مکرمی میں تعمیر کرایا، درگاہ شریف سے باہر کنوئیں کے مغربی جانب نیلگران نے چند کمرے تعمیر کراکے زائرین کے قیام کے لئے درگاہ شریف کے نام وقف کردئیے ہیں ایک نامکمل عمارت جسے تقسیم سے پہلے جمعدار شیخ جعفر علی کے لڑکوں نے تعمیر کرنا شروع کی تھی جسے وہ نامکمل چھوڑ کر پاکستان چلے گئے تھے درگاہ کمیٹی نے شری رام لال ساکن دہلی سے جسے مذکورہ عمارت کلیم میں محکمہ کسٹوڈیں سے ملی تھی خرید کر درگاہ شریف کی عمارت میں شامل کردی ہے۔ عیدگاہ جو درگاہ شریف سے مشرق کی جانب دوسوگز کے فاصلے پر ہے اسے مسلمانان نرہڑ نے تعمیر کروائی تھی۔ تقسیم ملک سے پہلے خدام کی بڑی تعداد تھی اور ترکوں کا بڑا محلہ تھا جس کے مکانات جو زیادہ تر خس پوش تھے منہدم ہوگئے ہیں صرف ترکوں کی مسجد کھڑی ہے جو نمازیوں کی منتظر ہے اور ناغڑ پٹھانوں کی تعمیر کرائی ہوئی مسجد جو قلعہ کے اندر ہے وہ بھی غیرآباد ہے۔
آمدنی درگاہ:
مصارف درگاہ کے لئے دوہزار ایک سو چھیاسٹھ بیگھ زمین خام جسے اول پٹھان نوابوں نے اور بعد سرداران پنج پا نے وقف کیں اس زمیں کا کچھ حصہ محکمہ کسٹوڈین نے ضبظ کرلیا ہے کاشت کی اس وقف زمین کا ایک فیصلہ ریاست کھنیڑی کے ایک انگریز منتظم مسٹر کرول نے کیا تھا اس فیصلے کی تصدیق جملہ سرداران پنج پا نے کردی تھی۔
ریاست لوہارو کی جانب سے موضع سرسی کی مالگزاری سے ساڑھے چار سو روپے سالانہ درگاہ شریف کے نام وقف ہے جسے تقسیم ملک کے بعد اول حکومت پنجاب اور بعد میں حکومت ہریانہ نے ضبط کرلی اور تاحال واگزاشت نہیں کی ہے۔
موجودہ آمدنی بشمول روزمرہ کا نذرانہ، ماہ بھادوں کے میلے کی آمدنی اور شب معراج کے جلسے کی نظر چالیس پچاس ہزار روپے سالانہ ہوتی ہے جسمیں سے حسب فیصلہ ڈسٹرک ججی جھنجونو نو آنہ مصارف درگاہ اور سات آنے فی روپیہ خدام کو ان کا مورثی حصہ اور بعض کو حق الخدمت دیا جاتا ہے۔
میلہ:
درگاہ شریف میں ہرسال ماہ بھادوں کی ۸ تاریخ کو میلہ لگتا ہے جس میں زائرین بلاتفریق و مزہب و ملت شرکت کرتے ہیں اور درگاہ شریف پر نظریں چڑھاتے ہیں جسکی تین چار ہزار روپیہ کے درمیان آمدنی ہوجاتی ہے۔ میلہ کے موقع پر تین دن تک یعنی ماہ بھادوں کی ۶،۷ اور ۸ تاریخ تک بڑی دھوم دھام رہتی ہے اور بہت رونق ہوتی ہے۔ اب نیلگران کی مالی امداد سے کنوئیں میں بجلی کا انجن اور درگاہ شریف میں پانی کے نل لگائے گئے ہیں نیز مکانات میں بجلی لگ گئی ہے میلے کے زائرین کو پانی اور روشنی کی قلت محسوس نہیں ہوتی ہے۔
خدام درگاہ:
تقسیم ملک سے پہلے خدام کی بڑی تعداد تھی آمدنی درگاہ میں حصہ پانے والے ایک سو چار خادم تھے اب صرف سات حصہ دار ہیں اور دو حق الخدمت پانے والے باقی ہیں یہی خادم خدمت درگاہ بجا لاتے ہیں ماہ مارچ ۱۹۴۸ء میں درگاہ کے جملہ خادم جبکہ ملک میں بدامنی تھی درگاہ شریف کو بے حفاظت چھوڑ کر جسکی حفاظت ان کا فرض تھا پاکستان چلے گئے یہ تو حضرت حاجب شہید کا روحانی تصرف تھا کہ نہ تو درگاہ شریف کو نقصان پہنچا اور نہ بے حرمتی ہوئی ورنہ خدام نے تو اپنا فرض پورا کرنے میں پوری کوتاہی کی تھی۔ خدام کے پاکستان چلے جانے کے بعد حکومت کی جانب سے حفاظت درگاہ کا قابل انتظام ہوگیا ہے پاکستان جانے والے خدام میں سے تین چار خادم اپنے اہل و عیال کو پاکستان چھوڑ کر واپس آگئے اور چند خدام جو بسلسلہ ملازمت جے پور وغیرہ میں تھے درگاہ میں پہنچ گئے۔
درگاہ شریف کے خدام کی دو شاخیں ہیں ایک قاضی کریم الدین صاحب کی اولاد ہیں اور دوسری شیخ نظام الدین صاحب کی اولاد ہیں۔ قاضی کریم الدین صاحب کا سلسلہ نسب ۲۱ واسطوں سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پر منتہی ہوتا ہے۔ قاضی کریم الدین صاحب کے ایک فرزند حضرت حمزہ صاحب ولی گزرے ہیں جن کا مزار موضع دہرسوں نزد نارنول میں ہے۔
درگاہ کمیٹی:
۱۹۵۹ء سے پہلے درگاہ شریف میں بہت بدانتظامی تھی خدام من مانی کاروائی کرتے تھے اور تقاسمہ آمدنی پر آپس میں دست و گریباں رہتے تھے درگاہ شریف کی مرمت وغیرہ اور زائرین کے آرام اور ضروریات کا کوئی خیال نہیں رکھتے تھے آخر زیر دفعہ ۹۲ تعزیرات ہند ڈسٹرک ججی جھنجہنو میں مقدمہ دائر ہوکر آمدنی درگاہ کے مصارف کا تعین کردیا گیا اور انتظام درگاہ کے لئے پانچ آدمیوں کی ایک کمیٹی مقرر کردی گئی جو تین سال بعد تبدیل کردی جاتی ہے۔ ڈسٹرک ججی کے اس فیصلے کے تصدیق راجھستان ہائیکورٹ سے بھی ہوگئی ہے اب درگاہ کا انتظام اور تقاسمہ آمدنی مزکورہ کمیٹی کرتی ہے۔
خان بہادر میجر محمد یسٰین خان  کی کتاب ” قبیلہ ںاغڑ ” سے اقتباس

Advertisements
Status

کراچی میں ہونے والے ہر واقعے کا الزام ایم کیو ایم اور مہاجروں پر کیوں ؟

اسٹیبلشمنٹ کی کرمنل آئزیشن پالیسی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ کراچی میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی یا کسی بھی قسم کا بھی واقعہ رونما ہو تو کسی نہ کسی طرح اس میں ایم کیو ایم کو ملوث کردیا جائے اور اس کا الزام ایم کیو ایم اور مہاجروں کے سر تھوپ دیا جائے تاکہ ایک طرف تو ایم کیو ایم اور مہاجروں کو دہشت گرد ثابت کیا جاسکے ۔ ۔ ۔ اس کا امیج اتنا خراب کیا جائے اور دوسری طرف اس واقعے کو بنیاد بنا کر ایم  کیو ایم اور مہاجروں کے خلاف مزید کاروائیوں کا جواز پیدا کیا جاسکے۔ اس پالیسی کے تحت اسٹیبلشمنٹ نے ماضی میں بھی منظم سازشیں تیار کیں اور اب بھی اسٹیبلشمنٹ اسی قسم کی سازشوں میں ملوث ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے ایک منظم سازش کے تحت اپنے ایجنٹوں کے زریعے حکیم سعید کو قتل کروایا اور اس کا الزام ایم کیو ایم کے سر تھونپ دیا گیا تاکہ اس کو جواز بنا کر ایم کیو ایم اور مہاجروں کے خلاف ایک اور آپریشن شروع کیا جاسکے۔

ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے، چھتری اسی وقت کھلتی ہے جب بارش ہوتی ہے یا جب دھوپ سے بچنا ہوتا ہے ورنہ بغیر بارش کے، بغیر دھوپ کے چھتری لینے کا، چھتری لے کر چلنے کا کیا مطلب ہے ؟ لہذا یہ بات بلکل واضح ہے کہ حکیم سعید سے لے کر امجد صابری کا قتل اسٹیبلشمنٹ کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا اور ہے اور اس کا ثبوت اس طرح ملتا ہے کہ ادھر قتل ہوتا ہے اور اُدھر ایم کیو ایم اور مہاجروں کے خلاف نہایت تیزی کے ساتھ کاروائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے خود پریس کانفرنس کرکے ایم کیو ایم پر حکیم سعید کے قتل کا الزام لگایا اور جیب سے پرچی نکال کر نام لئے اور کہا کہ ” آئی ایس آئی والوں نے تحقیقات کر کے ہمیں ایم کیو ایم کے لوگوں کے نام دئیے ہیں”۔ اب ملاحضہ کیجیئے کہ ادھر امجد صابری کا قتل ہوا اور اُدھر ایجنسیوں نے مجوزہ قاتل کا خاکہ جاری کردیا جس میں نہ  بالوں کا رنگ معلوم نہ آنکھوں کا مگر قاتل  کی زبان اور قومیت کے بارے میں فوری معلوم ہوگیا.

دراصل یہ سازشیں کرمنلائزیشن کی پالیسی کے تحت تیار کی جاتی ہیں جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو دنیا بھی میں ایم کیو ایم اور مہاجروں کا امیج خراب کیا جائے اور دوسری طرف اس کو بنیاد بنا کر ایم کیو ایم اور مہاجروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ یعنی یہ طے شدہ پالیسی ہے کہ ایم کیو ایم اور مہاجروں کو دہشت گرد اور مجرم بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا جائے۔ ایم کیو ایم اور مہاجروں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے کراچی میں ہونے والے ہر واقعے کا الزام ایم کیو ایم اور مہاجروں پر تھوپ دیا جاتا ہے اور جب ان سے پوچھا جائے کہ کراچی میں ہونے والے ہر واقعے کی زمہ دار ایم کیو ایم کس طرح ہے تو اس کے لئے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ” چونکہ ایم کیو ایم کراچی کی اکثریتی جماعت ہے لہذا کراچی میں ہونے والے ہر واقعے کی زمہ دار ہے” اگر ان کا یہ فارمولا مان لیا جائے کہ جہاں جس پارٹی کی اکثریت ہو وہ اس علاقے میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی خرابی کی زمہ دار ہے تو پھر اس لحاظ سے اندرون سندہ میں ہونے والی تمام دہشت گردی اور قتل و غارت گیری کی زمہ دار پیپلز پارٹی ہوئی، پنجاب میں تمام دہشت گردی اور قتل و غارت گیری کی زمہ دار مسلم لیگ نون ہوئی اور خیبر پختون خواہ میں تمام تر قتل و غارت گیری اور دہشت گردی کی زمہ دار تحریک انصاف ہوئی کیونکہ یہ تمام جماعتیں اپنے اپنے صوبوں اور علاقوں کی اکثریتی جماعتیں ہیں لیکن کبھی ان تمام صوبوں اور علاقوں کی اکثریتی جماعتوں کو وہاں ہونے والی قتل و غارت گیری اور دہشت گردی کے لئے مورود الزام نہیں ٹھرایا گیا کیونکہ یہ جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے مذموم مقاصد میں برابر کی شریک کار ہیں اس کی پالیسیوں اور احکامات پر بنا چوں چرا کئے عمل کررہی ہیں اور ان جماعتوں کی اپنے اپنے صوبوں اور علاقوں پر اکثریت یا حاکمیت اسٹیبلشمنٹ ہی کی مرہون منت ہے اور دوسری طرف اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی ہے کہ مہاجروں کو صفح ہستی سے مٹادیا جائے, ان کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم کو ختم کردیا جائے، ملکی سیاست، انتظامیہ اور تمام معملات سے مہاجروں کا صفایا کردیا جائے تاکہ ملک میں کرپٹ اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام جاری و ساری رہ سکے۔ اس لئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایم کیو ایم کو ایک دہشت گرد جماعت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے اور پیش کیا جارہا ہے.

Status

قوم یا کمیونٹی کی آئسولیشن

 

لیڈر اور لیڈر شپ کی آئسولیشن کے عمل کے بعد تیسرے مرحلے میں اسٹیبلشمنٹ قوم یا کمیونٹی کا آئسولیشن کرتی ہے کیونکہ جب کوئی تحریک یا پارٹی عوام میں چلی جاتی ہے یعنی اس کی جڑیں عوام تک جا پہنچتی ہیں تو پھر بات صرف لیڈر، لیڈر شپ اور پارٹی کی آئسولیشن تک محدود نہیں رہتی بلکہ پھر اس تحریک کے لیڈر، تحریک کی قیادت اور پارٹی پرچم کے تلے جمع ہونے والے افراد، قوم یا کمیونٹی کی آئسولیشن تک جاپہنچتی ہے۔ پہلے اور دوسرے مرحلے میں تو صرف لیڈر شپ، زمےداروں، عہدیداروں کا آئسولیشن کیا گیا تھا، ان سے مجرم کی حیثیت سے برتاو کیا گیا اور جھوٹے مقدمات بنا کر ان کو آئسولیٹ کردیا گیا لیکن اس سے پارٹی ختم نہیں ہوئی اور پارٹی سے عوام کی ہمدردی، عوام کا لگاو اور سیاسی وابستگی تما تر ریاستی مظالم کے باوجود برقرار رہی چنانچہ ریاست نے جب یہ دیکھا کہ ایم کیو ایم کو مہاجروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ تو سوچا کہ اب کیا کیا جائے؟ لہذا طے کیا گیا کہ اب بات صرف لیڈر شپ کے خاتمہ تک نہیں رہے گی بلکہ تحریک کے حمایتیوں اور ہمدردوں کے خاتمہ تک جائے گی۔ یعنی کہ اس قوم کو، اس طبقے کو اور اس پورے گروہ کو جو ایم کیو ایم یا ایم کیو ایم جیسی کسی نظریاتی تنظیم کو سپورٹ کررہا ہو اس کو بھی اب آئسولیٹ کرنا اور بحیثیت قوم ان سے مجرموں جیسا برتاو کرنا اسٹیبلشمنٹ کے لئے مجبوری ہوجاتا ہے۔

لہذا اب ختم کرنے کی بات پارٹی تک محدود نہیں رہتی بلکہ قوم کو بھی آئسولیٹ کرنے کا عمل کیا جاتا ہے کیون کہ اسٹیبلشمنٹ یہ بات جانتی ہے کہ جب تک اس طبقہ آبادی، کمیونٹی اور قوم کو آئسولیٹ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک اس کے خلاف بحیثیت قوم بھرپور ریاستی آپریشن کرنا ممکن نہیں ہوگا اس لئے کہ پھر دنیا کو جواب دینا ہوگا، ملک کے عوام کو جواب دینا پڑے گا کہ آپ ایک پوری قوم کے خلاف ریاستی آپریشن کیوں کررہے ہیں ۔۔۔۔ ؟ آپ ایک قوم کو نشانہ کیوں بنارہے ہیں ۔۔۔۔ ؟ آپ ایک قوم کے خلاف فوج کا استعمال کیوں کررہے ہیں ۔۔۔۔ ؟ لہذا اس صورتحال سے بچنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ یہ حربہ استعمال کرتی ہے کہ پوری قوم کو من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگا کر ملک دشمن ثابت کیا جائے اور اس طرح پوری قوم کو آئسولیٹ کردیا جائے تاکہ جب بحیثیت قوم اس کے خلاف ریاستی آپریشن کیا جائے تو قوم کی ماوں، بہنوں، بیٹیوں، بزرگوں اور بچوں سمیت کسی کو بھی نہ بخشا جائے اور سب کو ریاستی اپریشن کا نشانہ بنایا جائے۔

۱۹۹۷، الطاف حسین، بانی و قائد متحدہ قومی مومنٹ (پاکستان)

Status

Urdu Blog:National Action Plan or National Destruction Plan ?

آرمی پبلک اسکول پشاور میں بےدردی کے ساتھ قتل کئے گئے معصوم بچوں کے لاشوں پر جنوری ۲۰۱۵ میں ۲۰ نکاتی ” نیشنل ایکشن پلان ” کی منظوری تمام پارلیمانی جماعتوں اور عسکری قیادت کی موجودگی میں دی گئی۔ اس موقع پر جمہوری حکومت کی جانب سے اپنے اختیارات عسکری ادارے کو سونپنے پر پاکستان کی سب سے بڑی اور حقیقی لبرل اور سیکولر جمہوری سیاسی جماعت ایم کیو ایم نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تو بری افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے چیف جنرل رضوان اختر نے وزیراعظم کی موجودگی میں ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین صاحب کو لندن ٹیلیفون کرکے یقین دلایا کہ ” نیشنل ایکشن پلان ” کا اطلاق صرف اور صرف جیٹ بلیک مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردوں ہی کے خلاف ہوگا، وقت اور حالات کی نزاکت کے باعث جناب الطاف حسین صاحب نے پاکستان کی قدامت پسند اور کذب بیان عسکری قیادت کے وعدوں پر ایک بار پھر بھروسہ کرلیا۔

اختیارات ملنے کی دیر تھی کہ پاکستان کی قدامت پسند عسکری قیادت کی جانب سے کذب بیانی کا عمل شروع ہوگیا اور کانفرنس سے باہر نکلتے ہی آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فرمایا کہ “صرف مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی” اور پھر ” نیشنل ایکشن پلان ” کو کمال ہوشیاری کے ساتھ ” نیشنل ڈسٹریکشن پلان ” میں تبدیل کردیا گیا۔ وہ تمام افراد گروہ اور جماعتیں جو مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خلاف تھیں انہیں چُن چُن کر ” نیشنل ڈسٹریکشن پلان ” کے تحت نشانہ بنایا گیا اور جن مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گرد گروہوں اور جماعتوں کو ” نیشنل ایکشن پلان ” کے تحت نشانہ بنایا جانا تھا انہیں ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا گیا اور میڈیا مینجمنٹ کے زریعے ایسا شور اور غوغا مچایا گیا کہ ہر چیز دھندلا کر رہ گئی۔

پاکستان کی موجودہ عسکری قیادت کے کالے کرتوتوں کا  بھانڈا اب پھوٹ چکا ہے اور اپنے منطقی انجام سے خوفزدہ یہ “وطن فروش” جرنیل اب ملک عزیز کے طول و عرض میں چور اچکوں، مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردوں، منشیات فروشوں اور کرائے کے سیاسی ٹٹوں کے زریعے “وطن پرستی” کے نعرے بلند کروارہے ہیں لیکن مملکت عزیز کے طول و عرض میں کوئی بھی شریف شہری تمام تر میڈیائی پراپیگنڈے اور ریاستی طاقت کے استعمال کے باوجود ان کذب بیان اور قاتل جرنیلوں کی باتوں پر یقین کرنے کوتیار نہیں اور عام عوامی رائے یہی ہے کہ قائداعظم کے پاکستان پر 68 سال سے قابض ان جرنیلوں کے غیر آئینی اور غیر قانونی قبضہ کے خلاف نہ صرف ملک گیر تحریک چلائی جائے بلکہ ان کا کڑا سے کڑا احتساب کیا جائے اور قائد اعظم کے پاکستان کو ان کذب بیان اور قاتل جرنیلوں کے چُنگل سے آزاد کرواکر سیکیورٹی اسٹیٹ سے دوبارہ ایک فلاحی ریاست بنانے کی تگ و دو کی جائے۔

اللہ رب العزت عوام پاکستان اور افواج پاکستان کو نظریہ پاکستان اور جغرافیہ پاکستان کی حفاظت کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Status

خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

مشیر خارجہ سرتاج عزیز صاحب کے مطابق ایک سابق سفیر کی وجہ سے لابنگ میں دشواریاں درپیش ہیں گویا صرف ایک آدمی نے ساری وزارت خارجہ کو ہیجڑا بنا رکھا ہے۔ مملکت عزیز میں گزشتہ تین سالوں سے وزارت خارجہ کا قلمدان بظاہر تو وزیراعظم شریف کے ہی پاس ہے اور انہوں نے اپنی معاونت کے لئے مشیروں کا اہتمام کررکھا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ وزارت خارجہ کا اضافی قلمدان محترم جناب جنرل شریف صاحب کے ناتواں کندھوں پر گزشتہ تین سالوں سے بوجھ بن کر ڈول رہا ہے۔

مشیر خارجہ کا لابنگ میں ناکامی کا اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اس وقت تاریخ کی بدترین آئسولیشن کا شکار ہے، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر اندرون ملک اور بیرون ملک کرمنل آئزیشن کے سنگین چارجز ہیں اور ڈیمورلائزیشن کی انتہا یہ ہے کہ اپنی تمام تر ناکامیوں کا سبب صرف ایک آدمی کو گردانا جارہا ہے.

 مشیر خارجہ کی مرثیہ گوئی پر سابقہ سفیر بھی کہاں چپ رہنے والے تھے جواب میں ترکی بہ ترکی فرمایا کہ میاں اپنے کرتوتوں کا بوجھ میرے گلے نہ ڈالو نہ ہی میں ڈاکٹر قدیر نیٹ ورک کے قیام کی وجہ ہوں نہ ہی نام کی بنیاد پر حقانی نیٹ ورک کا کوئی کمانڈر اور نہ ہی کاکول شریف میں اسامہ بن لادن کے قیام اور طعام کے بندوبست کا زمہ دار، افغانستان کو عالمی طاقتوں کے لئے دلدل بنا دینے کے خواب بھی میں نے نہیں بُنے تھے۔

اپنی اس آئسولیشن کا ادراک ہے اسٹیبلشمنٹ کو اور اندرون ملک اس ہی کے سدباب کے لئے چور اچکوں، مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشتگردوں اور کرائے کے ٹٹوں پر مشتمل ٹولوں کو “وطن پرستی” کا راگ الاپنے کا کام سونپا جاچکا اور وہ تمام سیاسی اور سماجی اکائیاں جنہیں اسٹیبلشمنٹ اپنے ان مذموم مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے انہیں جنگی حکمت عملی کے تحت روندنے، ان کی آواز کو دبا کر ان کی کردار کُشی کرنے اور ان کے انفرااسٹکچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ماورائے آئین اور ماورائے قانون تمام حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔

یقین جانیں کہ الطاف حسین صاحب اور ایم کیو ایم کا قصور صرف یہ ہے کہ ۹/۱۱ کی دہشت گردی کے بعد الطاف حسین صاحب کی قیادت میں واحد ایم کیو ایم نے پاکستان میں کلاشنکوف بردار شریعت اور مذہبی دہشت گردی کے خلاف نہ صرف آواز حق بلند کی بلکہ بابانگ دہل اس کے خلاف میدان عمل میں بھی آئی اور دہشت گردی کا شکار افراد اور ملکوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ ایم کیو ایم کا یہ کردار مملکت عزیز کی قدامت پسند اور جاگیردارانہ، وڈیرانہ قوتوں اور بشمول اسٹیبلشمنٹ کے ایک مخصوص حصہ کو ایک آنکھ نہ بھایا اور پھر وہی پرانی آئسولیشن، ڈی مورل آئزیشن اور کرمنل آئزیشن پر مبنی سہہ جہتی حکمت عملی کے زریعے ایم کیو ایم کو لگام ڈالنے کی کوششیں گزشتہ ایک دہائی سے کی جارہی ہیں، ایم کیو ایم کے کارکنوں کو نہ صرف ماورائے عدالت قتل اور جبری طور پر گمشدہ کیا جارہا ہے بلکہ ایم کیو ایم کی تمام تر تنظیمی اور فلاحی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے مگر اس سب کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کی کامیابی کے تو کوئی آثار نہیں اُلٹا آئسولیشن، ڈی مورل آئزیشن اور کرمنل آئزیشن کی اپنی ہی اس سہہ جہتی پالیسی کا اسٹیبلشمنٹ اندرون اور بیرون ملک بذات خود شکار ہوتی جارہی ہے یعنی ” خود آپ اپنے دام میں صیاد آگیا”۔

اللہ رب العزت عوام پاکستان اور افواج پاکستان کو نظریہ پاکستان اور جغرافیہ پاکستان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Status

شب خون

ClQ86KrWkAAW-uN  nawaz an d asif nawazاسٹیبلشمنٹ نے اپنی سہ جہتی حکمت عملی کے تحت ایم کیو ایم کو ختم کرنے کے لئے جس فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کی اس کے لئے 1992ء میں جون کا مہینہ منتخب کیا گیا اور جنگی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ جنگی حکمت عملی میں دشمن پر کئی طریقوں سے حملہ کیا جاتا ہے، ایک اچانک، دوسرا شب خون، تیسرا ڈان اٹیک کہلاتا ہے جو علی الصباح کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب آدمی اُٹھتا ہے، اپنی عبادات کرتا ہے، رفع حاجت کو جاتا ہے اور سو کر اُٹھنے کے بعد اپنے آپ کو چاک و چوبند کرنے کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے تاہم پوری طرح چاق و چوبند نہیں ہوتا، ایسے وقت کئے جانے والے حملے کو ڈان اٹیک کہتے ہیں۔ دشمن پر ایسے وقت میں قابو پانے کے لئے عمومََا ڈان اٹیک کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح اچانک حملہ میں دشمن کی پوری توجہ کسی دوسرے محاذ کی طرف کرواکر اچانک کسی ایسے محاذ پر حملہ کیا جاتا ہے جہاں سے حملہ دشمن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا یعنی توجہ ہٹا کر حملہ کیا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم پر اچانک حملہ کے لئے حکومت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر یعنی ملک کی سیاسی جماعتوں، عوام، تمام قومیتوں اور بین الاقوامی دنیا کو یہ کارڈ دکھایا، یہ بات بتائی کہ سندھ میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں بہت ہورہی ہیں لہذا سندھ میں ایک بڑے آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے 72 افراد کی ایک فہرست بھی تیار کی گئی جس میں سندھ کے بڑے بڑے پتھارے داروں، جاگیرداروں اور وڈیروں کے نام دئیے گئے۔ 72 بڑی مچھلیوں کی اس فہرست کو سامنے رکھ کر یہ بتایا گیا کہ یہ آپریشن ڈاکووں، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں غرض یہ کہ جرائم کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف ہوگا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ لسٹ سامنے لائی گئی تو وزیراعظم نواز شریف، چوھدری شجاعت حسین اور چوھدری نثار کا یہ کہنا تھا کہ وہ فہرست حکومت نے تیار نہیں کی تھی بلکہ فوج نے ایم آئی اور آئی ایس آئی کی مدد سے فوج کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی تحقیقات کی روشنی میں 72 افراد کی یہ لسٹ تیار کی تھی۔ یہ بات نہ صرف چوھدری شجاعت اور چوھدری نثار نے کہی بلکہ متعدد بار وزیراعظم نواز شریف نے بھی یہی کہا اور پریس کانفرنسوں میں، بیانات میں اور انٹرویوز میں کہا، حتیٰ کہ منتخب ایوان  کے فلور پر کھڑے ہوکر بھی کئی دفعہ کہا گیا اور 72 افراد پر مشتمل وہ فہرست متعدد بار قومی اسمبلی کے ایوان میں بھی پیش کی گئی۔
دراصل اس فہرست کا مقصد یہ تھا کہ وہ فوج کی سندھ میں آمد کا جواز فراہم کرسکیں یعنی فوج کے سندھ میں داخل ہونے کی وجوہات اور بنیاد بناسکیں اس طرح پوری دنیا اور ایم کیو ایم والوں کو یہ کارڈ دکھا کر کہا جائے کہ یہ آپریشن ایم کیو ایم اور مہاجر عوام کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ یہ آپریشن تو دراصل ان 72 بڑے بڑے مجرموں کے خلاف ہوگا جن کی یہ فہرست ہے۔ یوں 72 افراد کی یہ فہرست پیش کرکے ایک طرف تو یہ کوشش کی گئی کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کو اس اصل بات سے بے خبر رکھا جائے کہ فوج اور حکومت کا اصل مقصد مہاجروں اور ان کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم پر شب خون مارنا اور ان کے خلاف آپریشن کرنا ہے دوسری طرف اس فہرست کا مقصد یہ بھی تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنماوں، کارکنوں اور ہمدردوں کو اس آپریشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنے کی تیاریوں سے غافل رکھا جائے۔ غافل رکھنے کا مطلب یہ تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنماوں، کارکنوں اور ہمدردوں کو یہ بتایا جائے کہ یہ آپریشن کسی ایک جماعت، پارٹی یا کسی ایک قوم کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ یہ آپریشن تو صرف بڑے بڑے جرائم کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف ہوگا۔ اس طرح پوری مہاجر قوم، ایم کیو ایم کے تمام ہمدرد اور ایم کیو ایم کے رہنما و کارکنان ذہنی طور پر کسی متوقع آپریشن سے بچاو کی تیاری نہیں کریں گے اور غافل رہیں گے اور اچانک حملہ، شب خون اور ڈان اٹیک کا مقصد یہی ہوتا ہے۔ ایسا حملہ کرکے دشمن کے اوسان خطا کئے جاتے ہیں اور اعصاب مفلوج کئے جاتے ہیں لہذا منصوبہ یہی تھا کہ مہاجروں کو مکمل طور پر غافل رکھا جائے کہ سندھ میں جو آپریشن کیا جارہا ہے وہ صرف ایم کیو ایم اور مہاجروں کے خلاف ہوگا۔
1997ء، الطاف حسین، بانی و قائد متحدہ قومی مومنٹ (پاکستان)
Status

فلسفہء حقیقت پسندی اور عملیت پسندی

فلسفہ حقیقت پسندی و عملیّت پسندی دراصل ہر شے کی اچھائی و برائی، خوبی و خامی جانچنے کا پیمانہ ہے۔ اس میں فلسفے، نظریات، کلیات، پالیسیاں، تصورات، نظام بشمول فرسودہ، جدید اور موجودہ نظام حکومت یا نظام برائے ادارہ شامل ہیں۔ یہ مختلف حلقوں، عناصر، اداروں یا افراد کی جانب سے پیش کردہ یا تخلیق شدہ تصورات، دیئے گئے بیانات، تجزیاتی تحریروں، مضامین یا موقف کی سچائی یا ان کے جھوٹ ہونے کے جانچنے میں بھی مددگار ہوتا ہے۔

حقیقت پسندی کیا ہے ؟

حقیقت پسندی، کسی حقیقت کو اس کی روح کے مطابق قبول کرنے کا عمل ہے بشمول حقائق، موجودات کائنات، واقعات، ضروریات زندگی، زمینی حقائق، موافق یا نا موافق صورتحال، حالات، ماحول چاہے وہ تصور یا خیال کے برعکس ہوں۔

اس ضمن میں مثالی، اخلاقی، مذہبی یا رومانوی سوچ کے بجائے عملی سوچ کو اپنایا جانا چاہیئے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ کسی کو ان کی ظاہری یا حقیقی صورت پسند ہو یا نا پسند ۔۔۔۔۔۔۔ چاہے دیکھنے والے کی خواہش انہیں کسی اور طرح سے دیکھنے کی ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر سورج مشرق سے نکلتا ہے چاہے کوئی اسے پسند کرے یا نہ کرے۔

اس طرح حکومتوں کو چلانے کے بہت سے نظام ہیں جو پوری دنیا میں موجود ہیں (مختلف نظام ہائے حکومت کی موجودگی) جو کہ تمام مقتدر ملکوں میں رائج ہیں۔ مثال کے طور پر جمہوری نظام، اشتراکی نظام، آمرانہ نظام اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام وغیرہ۔ کوئی بھی شخص ان میں سے ایک، دو یا زائد نظام کو پسند کرسکتا ہے اور کوئی ان میں سے ہر ایک نظام کو یکسر مسترد کرسکتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں اس کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے جاگیردارانہ نظام اور جاگیردارانہ سوچ و ذہنیت پر مبنی نظام رائج ہے۔ پاکستان میں جاگیردارانہ، وڈیرانہ، سردارانہ نظام ایک حقیقت ہے لیکن ۲۱ ویں صدی میں یہ حقیقت عام فہم ہے کہ یہ فرسودہ نظام ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

اس طرح تمام دستیاب پھل اور سبزیاں، مثلََا کیلے، آم، چیریز، گاجر، پیاز وغیرہ ہیں، چاہے آپ انہیں پسند کرتے ہیں یا نہیں کرتے ان کا وجود بہرحال ایک حقیقت ہے۔

حقیقی وجود رکھنے والی چیزوں میں دیگر حقائق بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ پھل اور سبزیاں تلخ یا ترش ذائقہ رکھتی ہیں۔ اگر کوئی فرد یہ حقیقت جانتا ہو کہ کچھ لوگ ان ترش پھلوں سے الرجک ہیں اور وہ جب بھی ایسا کوئی پھل کھاتے ہیں، انہیں گلے میں سوزش کی شکایت ہوسکتی ہے، تو وہ ایسے پھلوں کھانے سے پرہیز کرے گا۔ مچھلیاں، انڈے وغیرہ بھی ایک حقیقت ہیں لیکن کچھ لوگ ان سے بہت زیادہ الرجک ہیں۔ اس لئے جو لوگ ان چیزوں سے الرجک ہیں انہیں یہ چیزیں لینے یا کھانے سے باز رہنا چاہیئے۔

کھانے پینے کی اشیاء کو وجود ایک حقیقت ہے تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء صحت کے لئے مضر ہوتی ہیں۔ لہٰذا ان کے وجود کو ماننے اور ان کی اصلیت کے ادراک کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس چیز سے فائدہ ہوتا ہے اور کس چیز سے انسان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے۔ چیزوں کو ان کی حقیقی روح کے مطابق مزکورہ طریقے سے سمجھنا ” حقیقت پسندی ” کہلاتا ہے۔

عملیت پسندی کیا ہے ؟

کسی بھی چیز کے کرنے کا عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیصلے کرنا اور ترتیب دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے زرائع اور طریقے اختیار کرنا کہ جو حقیقت یا حقائق اور حقیقت پسندی کی اصل روح کے عین مطابق ہوں ” عملیت پسندی ” کہلاتا ہے۔  مثال کے طور پر کوئی شخص یہ دیکھے اور مشاہدہ کرے کہ کسی بھی مروجہ نظام میں  خرابیاں اور نقائص موجود ہیں اور وہ سمجھتا ہو کہ اس نظام کو بہتر کرنے کے لئے مثبت اقدامات اور اصلاحی عمل ضروری ہے تاکہ نظام کو عوام کیلئے بڑے پیمانے پر بہتر اور مفید بنایا جاسکے۔

بہتر اور فائدہ مند نتائج حاصل کرنے کے لئے عزم، تدبر اور سخت محنت کے ساتھ مثبت اقدامات اور اصلاحی طریقے اختیار کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے عمل کرنا اور بھر پور عملی اقدامات کرنا ” عملیت پسندی ” کہلاتا ہے۔

باالفاظِ دیگر عملیت پسندی سے مراد نظرئیے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یقین ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا تصور کے بجائے ایسا عمل کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا پالیسی تیار کرنا ہے جو تفصیلی تجزیئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ غور و خوص ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کسی عمل کے بعد پیش آنے والے حالات کے تمام تر نتائج سامنے آتے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا

عملیت پسندی سے مراد ایسا خیال ۔۔۔۔۔۔۔۔ کلیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اصول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو نہ صرف زبانی یا نظریاتی طور پر قابل عمل ہو بلکہ عملی طور پر بھی قابل عمل ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا

عملیت پسندی کا یہ بھی مطلب ہے کہ خیالات کو صرف سچائی پر ہی مبنی نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس قابل  بھی ہونا چاہئے کہ وہ دنیا کو کامیابی سے عملی طور پر تبدیل کرسکیں۔

اگست ۲۰۰۳، الطاف حسین، بانی و قائد متحدہ قومی مومنٹ (پاکستان)

Status