آئین رفاقت

ایک ناخوشگوار واقعہ کی وجہ سے کنیہڑی اور جئی پہاڑی کے پٹھانوں میں لڑائی کی نوبت آگئی جس کی اجمالی کیفیت یہ ہے کہ کنہیڑی کے ٹھاکر باکہیہ سنگھ کے زمانے میں جئی پہاڑی کے علی خان ناغڑ دکن سے ایک بڑے قد کا شاندار ہاتھی لائے راستہ میں علی خان ناغڑ نے کنہیڑی میں ایک رات قیام کیا۔ جب ٹھاکر باکہیہ سنگھ کو معلوم ہوا کہ جئی پہاڑی کا ایک پٹھان ہاتھی لایا ہے جو رئیسوں کی سواری کے قابل ہے تو ٹھاکر باکہیہ سنگھ نے اپنے کامدار کو حکم دیا کہ وہ ہاتھی خرید لے۔ جب کامدار نے علی خان ناغڑ سے ہاتھی کی قیمت دریافت کی تو علی خان ناغڑ نے اس عذر کے ساتھ فروخت کرنے سے انکار کردیا کہ میں یہ ہاتھی ٹھاکر رنجیت سنگھ کے لیئے لایا ہوں اسے وہ اپنی راجکماری کے جہیز میں دیں گے۔ جب کامدار نے ٹھاکر باکہیہ سنگھ سے رنجیت سنگھ کے لیئے ہاتھی کا لایا جانا بیان کیا تو اس نے حکم دیا کہ کل صبح ہاتھی قیمت دیکر خرید لیا جائے اگر علی خان ناغڑ انکار کرے تو جبراً ہاتھی پر قبضہ کرلیا جائے۔ جب علی خان ناغڑ کو باکہیہ سنگھ کے اس نادرشاہی حکم کا علم ہوا تو اس نے خیال کیا کہ باکہیہ سنگھ جیسے ظالم آدمی سے جس نے کنہیڑی کی لدی حاصل کرنے کو اپنے فرزند کو ہلاک کردیا اس سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ہاتھی جبراً چھین لے۔ چنانچہ علی خان ناغڑ نے رات ہی کو کوچ کردیا اور علی الصبح جئی پہاڑی پہنچ کر ہاتھی کو ڈونڈلود روانہ کردیا اور خود جئی پہاڑی میں ٹہرگئے۔ جب صبح کو ٹھاکر باکہیہ سنگھ کو معلوم ہوا کہ علی خان ناغڑ رات ہی کو چلا گیا تو اس نے سپاہیوں کی ایک جماعت کو اس حکم کے ساتھ جئی پہاڑی بھیجا کہ ہاتھی قیمتاً یا جبراً لے کر آئیں۔ جب کنہیڑی سے سپاہیوں کی جمعیت جئی پہاڑی پہونچی اور ہاتھی کا مطالبہ کیا تو علی خان ناغڑ نے کہا ہاتھی تو ڈونڈلود کا تھا وہیں بھیج دیا گیا تو اس انکار سے کنہیڑی کے آدمی برافروخت ہو کر لڑنے کو تیار ہوئے۔ کنہیڑی کے لوگوں کے اس ارادے کو سمجھ کر علی خان ناغڑ معہ اپنے فرزند امین خان اور خادم سابو کے حویلی میں مورچہ بند ہوگئے اور کوئی ناغڑ پٹھان اس وقت جئی پہاڑی میں موجود نہیں تھا مگر اسی اثنا میں بوڈانا کے حمید خان جو کسی کام کو جئی پہاڑی آئے تھے علی خان کو خطرہ میں دیکھ کر ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور اس طرح سے چار آدمی کنہیڑی کی بڑی جمعیت کے مقابل ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑے۔ ایک بڈھی نابینا میٹھانی کی غفلت سے حویلی کی پیچھے کی کھڑکی کھلی رہ جانے سے کنہیڑی کے سپاہی حویلی میں داخل ہوگئے۔ علی خان ناغڑ اور ان کے ساتھی بڑی بہادری سے لڑے اور کنہیڑی کے سپاہیوں کا کافی نقصان کیا یہ چاروں بہادر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ اس کے بعد کنہیڑی کے سپاہی اپنے ساتھیوں کی لاشیں لیکر بے نیل و مرام واپس چلے گئے اور شہیدوں کو دفن کردیا گیا جن کی قبریں آج بھی پختہ اور اچھی حالت میں موجود ہیں۔ یہ واقعہ 1793 کا ہے۔ علی خان ناغڑ کی اولاد میں اسوقت صرف ایک کمسن بچہ امانت خان باقی بچا جسکی اولاد باقی ہے۔ ٹھاکر رنجیت سنگھ نے علی خان ناغڑ کی وفادارانہ اور جانثارانہ خدمت کے صلہ میں زمین بطور نان کار علی خان کے ورثاء کو عطا کی۔

مندرجہ بالا ہاتھی واقعہ سے پہلے 1787 میں امیر خان جو بعد میں ریاست ٹونک کا نواب بنا معہ 20 نفر کے شیخاوتی میں آیا۔ اسے کسی زریعہ سے معلوم ہوا کہ موضع جئی پہاڑی میں ایک راجپوت مسمی درجن سنگھ بہت مالدار ہے۔ یہ اطلاع ملتے ہی امیر خان جئی پہاڑی پر چڑھ دوڑا تاکہ درجن سنگھ کے گھر کو لوٹ لے۔ جب جئی پہاڑی کے پٹھانوں کو یہ علم ہوا تو وہ امیر خان کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ آپ درجن سنگھ کے گھر کو لوٹنے کے غرض سے آئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم یہ عرض کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ راجپوت ہماری پناہ میں ہیں اور پٹھانوں کے قاعدے کے مطابق اپنے پناہ گیر کی یر قیمت پر حفاظت کریں گے لہذا آپ اس ارادے سے باز آجائیں ورنہ پٹھانوں کے آپس میں لڑنے کا احتمال ہے چنانچہ امیر خان اس ارادے سے باز رہا اور ناغڑ پٹھانوں کی دعوت کھا کر سنگیانہ چلا گیا۔ امیر خان اول سنگیانہ میں جرنل نجف قلی خاں کے رسالہ میں اور اسکے بعد ٹھاکر باکہیہ سنگھ کنہیڑی کی ملازمت میں ایک مختصر عرصہ رہ کر شیخاوتی سے چلا گیا۔

خان بہادر میجر محمد یسٰین خان ناغڑ کی کتاب قبیلہ ناغڑ سے اقتباس

Advertisements
Status

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s