شربت گلہ

دہلی پر تخت نشین ہونے کے کچھ عرصہ بعد سلطان بہلول لودھی ملتان اور پنجاب کے انتظام کے لئے چلا گیا پیچھے سے محمود شرقی نے میدان خالی پاکر لشکر عظیم کے ساتھ دہلی پر حملہ کردیا. دہلی میں پٹھانوں کی تعداد بہت کم تھی جو ایک بڑے تیاری لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی. اسی وجہ سے پٹھان معہ اہل و عیال قلعہ میں پناہ گزین ہوگئے . بہلول کی ساس بی بی متو نے مردوں کی کمی پوری کرنے کے لئے قلعہ میں موجود تمام عورتوں کو مردانہ لباس پہنا کر لڑنے کے لئے کھڑا کردیا جو قلعہ کی دیوار سے دشمن پر تیر باری اور سنگ باری کرتیں. جب بہلول کو دیپالپور میں محمود شرقی کے دہلی پر حملہ کی اطلاع ملی تو اس نے وہی سے تیز رفتار قاصد اس پیغام کے ساتھ افغانستان بھیجے کہ ” اللہ تعالی نے دہلی کی بادشاہت پٹھانوں کو عطا فرمائی ہے مگر سلاطین ہند انہیں یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں. اس وقت پٹھانوں کے اہل و عیال قلعہ دہلی میں محصور ہیں, مستورات کی شرم ہماری اور آپ کی ایک ہے. ناموس کا اقتضا یہ ہے کہ آپ اپنے قبیلوں کے ساتھ یہاں آئیں اور اپنے ناموس کی حفاظت کریں. اس پیغام کے ملتے ہی پٹھانوں کے قبائل شروانی, شیرانی, لوحانی, پنی اور ناغڑ بہ سرعت تمام ہندوستان پہنچ گئے.

14962284_1155435487870927_44759604_n

حاجی زردار خان ناغڑ صاحب کی کتاب ” صولت افغانی ” اے اقتباس

Advertisements
Status

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s