اناالحق

  ذی الحج 23- 302  کو بغداد میں یہ اعلان کردیا گیا کہ آج منصور رحمتہ اللہ علیہ کو پھانسی دی جائے گی ، لیکن ایک گروہ کی سیاسی مداخلت سے اس روز عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ 23 زی الحج کی رات کو پچھلے پہر منصور نے حوالات کے پیچھے سجدے سے سراٹھایا اور بلند آواز میں کہا ” شہادت میرے نصیب میں ہے اور روز آخرت میں فاتحوں کی طرح اٹھوں گا”.  24زی الحج کی صبح طلوع ہوئی تو باب خراساں کے تھانے کے سامنے کرائے کے آدمیوں کا ہجوم تھا جنہیں خاص طور پر وہاں لایا گیا تھا ۔ منصور رحمتہ اللہ علیہ کو حوالات سے تختہ دار لایا گیا تو حامیوں اور مخالفوں پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ منصور رحمتہ اللہ علیہ بہادروں کی طرح خود تختہ دار کی طرف بڑھے اور اس نے تختہ دار پر کھڑے ہوکر آس پاس نگاہ ڈالی ۔ لکھے گئے فیصلے کے مطابق سب سے پہلے اسے کوڑے مارے گئے ۔ اس کے بعد ہاتھ کاٹے گئے ۔  “منصور رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تم نے میرے ظاہری ہاتھ کاٹ دیے ہیں لیکن میرے باطنی ہاتھ اب بھی موجود ہیں جو میرے مقصود کو چھورہے ہیں “.  پھر اس کے پاوں کاٹ دیے گئے ۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مسکراکر کہا ” میں ان پیروں سے خاک پر چلا کرتا تھا لیکن میرے باطنی پیراب بھی موجود ہیں جو دونوں عالم کا سفر کرتے ہیں ۔ ہوسکے تو انہیں بھی کاٹ دو “.کچھ دیر کے بعد  منصور نے کٹے ہوئے خون آلودہ بازوں کو چہرے پر مل کر چہرہ اور بازو خون آلودہ بازوؤں کو چہرے پر مل کر چہرہ اور بازو خون آلودہ کرلیے ۔ لوگوں نے سوال کیا آپ نے خون چہرے پر کیوں مل لیا ؟ . منصور رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا ” میں جانتا ہوں زیادہ خون بہہ جانے سے میرا رنگ پیلا پڑگیا ہو گا اور تم سمجھ رہے ہوگے کہ یہ کسی خوف کی وجہ سے ہے ۔ لہٰذا میں نے اپنا چہرہ سرخ کرلیا تاکہ تمہارے سامنے سرخرو رہوں ۔ لیکن حقیقت تو صرف اتنی ہے کہ عشق کی نماز صرف خون کے وضو سے ہی ادا ہوسکتی ہے ۔’ اچانک ایک جلاد آگے بڑھا اور اس نے منصور کی آنکھیں نکال دیں ۔ ہجوم چیخ اٹھا ۔  جلاد نے زبان کاٹنا چاہی تو منصور رحمتہ اللہ علیہ نے کہا  ٹھہرو مجھے کچھ کہنا ہے “.  اتنا کہ کر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا ” اے  خداوند بحروبر ! تو کس طرح اسے دوست نہ رکھے گا جو تیری راہ میں دکھ اٹھاتا ہے ” .  

جب آپ کی زبان کاٹی گئی تو شام  ہوچکی تھی ، سرکاٹنے کا عمل باقی تھا کہ شہر میں ہنگامہ ہوگیا اور خلیفہ کی طرف سے سر کاٹنے کا حکم آنے میں دیر ہوگئی ۔ قاصد خلیفہ کا حکم لے کر عجلت میں باب  خراساں  پہنچا ۔ اس کے ساتھ ابن مکرم کے فراہم کردہ زرخرید گواہ تھے اور وہ پکار پکار کہہ رہے تھے اس کا قتل کرنا مسلمانوں کے حق میں ہے اسے قتل کردو ۔ خون ہماری گردنوں پر ہے ۔ جلاد نے زور سے ہاتھ چلایا اور سرکٹ  کر نیچے آگرا۔ ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی اور منصور رحمتہ اللہ علیہ کے ہر قطرہ خون سے اناالحق کی صد آرہی تھی ۔ شام سے پہلے سربریدہ جسم کو تختہ دار سے  اتار تیل میں تر کر کے آگ لگادی گئی۔ جب جسم خاکستر ہوگیا تو ایک مینار سے راکھ دریائے دجلہ میں بہا دی گئی ۔

img-20161002-wa00081

Advertisements
Status

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s