سوئچ آن، سوئچ آف پالیسی

کراچی میں اپنے گھناونے مقاصد کی تکمیل کے لئے اسٹیبلشمنٹ ” سوئچ آن، سوئچ آف ” پالیسی پر اکثر عمل کرتی رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سوئچ آن ہونے پر اس کے ایجنٹوں نے کراچی میں قتل وغارت، دہشت گردی اور تخریب کاری کی کاروائیاں کیں اور شہر کے پر امن حالات کو خراب کیا۔ جب اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹوں کی کاروائیوں کے نتیجے میں حالات خراب ہوئے تو اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت اسٹیبلشمنٹ نے دنیا بھر میں کراچی کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تاکہ ان کو جواز بنا کر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر ریاستی آپریشن شروع کیا جاسکے اور مہاجروں اور ان کے نمائندہ جماعت ایم کیو ایم کو صفحہ ہستی سے مٹایا جاسکے۔ جب اسٹیبلشمنٹ اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت حکیم سعید کے بہیمانہ قتل اور کراچی کے مخدوش امن و امان کے حالات کو بہانہ بنا کر ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو سندھ میں منتخب حکومت کا خاتمہ کرواکر گورنر راج نافذ کرنے اور سمری ملٹری کورٹس قائم کروانے میں کامیاب ہوگئی تو اس نے اپنا ” سوئچ آف ” کردیا۔ سوئچ آف ہوتے ہی یعنی اس کا اشارہ ملتے ہی اس کے تمام ایجنٹوں نے کراچی میں قتل و غارت، دہشت گردی اور تخریب کاری کی کاروائیاں بند کردیں اور اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں چلے گئے جس سے صورتحال میں تبدیلی آئی۔ صورتحال میں اس خود ساختہ تبدیلی کی بنیاد پر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ گورنر راج کے نفاذ سے شہر میں امن قائم ہوگیا ہے جبکہ صورتحال اس کے قطعی برعکس ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے خود ہی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردی کروائی اور اس کے اشارے پر دہشت کی کاروائیاں رک گئیں۔

Advertisements
Status

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s