پٹھان کون۔۔۔۔؟

زیرِ نظر مظمون حیدرآباد (سندھ) کی معروف علمی ،ادبی اور سماجی شخصیت جناب عشرت علی خان داؤدزئ صاحب کی تاریخی اور تحقیقی تصنیف پٹھان کون کی “وجہ تسمیہ” پر مشتمل ہے۔ جسے اکتوبر 2012 میں ادراک پبلیکیشنز نے شائع کیا۔ پٹھان نامہ کے قارئین کے لیۓ اسے من و عن شائع کیا جا رہا ہے۔ آخری دو  پیراگراف جن کا تعلق کتاب کی تحقیق تصنیف اور اشاعت میں مدد اور تعاون کرنے والی شخصیات کے ناموں پر مشتمل تھا اسے غیر ضروری سمجھ کے حذف کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر راقم اپنے خیالات جذبات تحقیق اور تحریر کو فی الحال محفوظ رکھتا ہے۔ اور کسی مناسب وقت پر اظہارِ خیال کا ارادہ رکھتا ہے۔

۔ ” اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں یوں ذکر کیا ہے” ہم نے تمہیں قبیلوں میں اس لیۓ تقسیم کیا تاکہ تم پہچانے جا سکو” گویا قوم قبیلے خاندان ،  پاڑے، خیل، تمن، گوت اور شاخیں اس لیۓ وجود میں آئیں، کہ باہمی پہچان یا شناخت قائم رہ سکے۔ یاد رہے صرف پہچان یا شناخت۔ یہ نہ ہو کہ اس شناخت کو فخروغرور اور کِبرو نَخوت کا ذریعہ بنا لیا جاۓ۔ اس قسم کی پہچان جس میں حسب و نصب شناخت ہو معاشرے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سماج میں زندہ رہنے اور اپنی پہچان کرانے کے لیۓ انسان بہت سی باتوں کا سہارا لیتا ہے۔ کبھی وو نسلی اتحاد میں پناہ تلاش کرتا ہے تو کبھی لسانی، کبھی علاقائ تو کبھی مذہبی گویا آپس میں جڑے رہنے اور میل جول بھڑانے کے کئ طریقے اس نے ایجاد کر لیۓ ہیں تاکہ پہچانا جاسکے۔”۔

معاشرے کی اکائیوں کو ایک کرنے کے بہت سے ذرائع ہیں جیسا کے کہیں نسل مختلف ہوتی ہے لیکن زبان ایک جب کے کہیں زبان مختلف ہوتی ہے اور نسل ایک، کہیں علاقہ مختلف ہوتا ہے مگر مذہب ایک اور کہیں مذہب مختلف ہوتا ہے لیکن علاقہ ایک، یوں باہمی اشتراک اور میل جول کا عمل آگے بڑھتا اور مضبوط ہوتا رہتا ہے۔ میرا تعلق پٹھانوں کے قبیلے داؤدزئ سے ہے، اب سے کئ تین،  سوا تین سو سال پہلے ہمارے جدِ امجد میر عبدالرحیم خان، پشاور کے شمال سے نکل کر شاہ جہان پور صوبہ اتر پردیش میں رہائش پزیر ہوۓ اور پھر وہیں کے ہورہے آہستہ آہستہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس علاقے کا رہن سہن اور بولی تو اپنالی لیکن نسلی اعتبار سے ہر قسم کی کھوٹ سے مبرّا پٹھان ہے۔

میرے کتاب لکھنے کی اصل وجہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممتاز و مشہور کرکٹر شاہد خان آفریدی کے منہ سےبھارتی کرکٹ کا کامینٹیٹر ہارشا بھوگلے کے سامنے ادا کیا ہوا وہ جملہ مُعترضہ ہے جو اُس نے مشہور بھارتی کرکٹر عرفان پٹھان کے سامنے کہا تھا اور جسے اب پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ youtube

مجھے اس جملے میں تفاخر کم اور کج فہمی زیادہ محسوس ہوئ۔ اُس کا کہنا تھا کہ ” میں عرفان پٹھان کو پٹھان نہیں مانتا اِس لۓ کہ اُسے پشتو زبان نہیں آتی”۔ چونکہ میں خود پٹھان ہوں جو پشتو یا پُختو زبان سے نابلد ہےلیکن ساتھ ہی پٹھان ہونے کا دعویٰ بلکہ شجرہ بھی موجود ہے۔ شاہد آفریدی کا یہ جملہ سن کر سوچا کہ اس طرح اور اس معیار پر نہ تو سندھ میں بسنے والے درّانی پورے اترتے ہیں اور نہ ہی سرہندی، نہ جوناگڑھ کے خان جی اور نہ بھوپال کے نواب، نہ ردہیل کھنڈکے ردہیلے جنھیں ایک عالمَ ہی نہیں خود پٹھان موّرخ اور تاریخ دان بھی پٹھان مانتے ہیں نہ پنجاب کے ککے زئ، نہ فرخ آباد کے بنگش اور آفریدی، نہ علی گڑھ کے شیروانی نہ خرجے اور بلند شہر کے برنی، نہ راجھستان کے ناغڑ نہ ٹونک کے سالارزئ پٹھان۔ کیونکہ اِن میں سے اب بہت سوں کو پشتو زبان نہیں آتی جب کے یہ بات بلکل طے ہے کہ ان کے آباؤاجداد یہی زبان بولتے تھے۔

دوسری طرف پشاور اور کوئٹہ میں بسنے والے دوسری زبان اور نسل کے لوگ پشتو باآسانی اور روانی سے بولتے ہیں تو کیا صرف اسی خوبی پر انھیں پٹھان تسلیم کرلیا جاۓ؟ شاید ایسا ممکن نہ ہو۔

ہندوستان کے مختلف علاقوں میں بسنے والے پٹھان جب اُن علاقوں میں آباد ہوۓ تو وہاں کی ثقافت میں ڈھل گۓ اور اُن علاقوں کی بولیوں کو اپنا لیا۔ یہ اِس لۓ بھی ہوا کہ اب سے دو، تین سو سال قبل ذرائع مواصلات اس قدر جدید نہیں تھے ہزاروں کلو میٹر کا سفر طے کرکے اپنے آبائ علاقوں کا دورہ کرنا یہ اُن سے تال میل رکھنا اتنا آسان نہیں تھا۔ جو لوگ ایک دفعہ کسی لشکر یا تجارتی قافلے کے ساتھ دور دراز علاقوں میں چلے جاتے پھر ایسا ہوتا کے اُن میں سے دو چار کسی علاقے میں رہ جاتے اور وہیں کی بودوباش اختیار کرلیتے۔ بعد میں اُن کے ناموں کے ساتھ نسلی شناخت ہی باقی بچتی تھی یا پھر جس جگہ یا محلوں میں وہ رہتے تھے اُن محلوں کے نام اُن کی شناخت قائم رکھتے تھے۔ ہندوستان میں زیادہ تر پٹھان محلوّں کے نام کڑہ، کوئلہ، گڑھی، گڑھیا، ٹولہ جیسے ناموں پر ہوتے تھے۔ جن علاقوں میں پٹھان بڑی تعداد میں رہتے وہاں ثقافتی طور پر بھی کچھ فنونِ لطیفہ خاص طور پر شاعری کی اقسام مثلاٗ پٹہ چار بیتہ لوبہ وغیرہ مقامی رنگ میں سنائ یا دکھائ دیتی تھیں۔ ہندوستانی پٹھانوں کے رسم و رواج شادی بیاہ گیتوں اور شاعری میں پٹھانی رنگ صاف جھلکتا ہوتا تھا۔

اس طرح جب کچھ کم فہم لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ انسان کو اپنی نسلی یا قبیلے کی زبان کچھ نہ کچھ ضرور آنا چاہیے تب ان کی کم عقلی پر صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اور اس سلسلے میں یہ مثال دی جا سکتی ہے کہ وہ پٹھان یا ان کے علاقوں میں رہنے والے جو خود کو شاہ یا سیّد کہلواتے ہیں ظاہری طور پر تو عرب ہوۓ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں اپنی نسلی یا آبائ بولی آتی ہے جو اس فارمولے کے مطابق یقینا۫ عربی ہونا چاہیے. مجھے یقین ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہوگا۔ اس سلسلے کی ایک اور دلیل اس طرح ہے کہ خود پٹھانوں میں بہت سوں بلکہ بڑے بڑے فلسفیوں اور عالموں کا کہنا ہے، کہ پشتون بنی اسرائیل کے اُن قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں جو کبھی اپنے دوسرے قبیلوں سے بچھڑ گۓ تھے۔ اِس تناظر کے بارے میں دیکھا جاۓ تو پٹھانوں کو ھیبریو  یعنی عبرانی زبان ضرور آنا چاہیے۔ گویا بہت سے تاریخ دانوں کے خیال میں وہ اسرائیلی ہیں مگر عبرانی زبان سے دور بلکہ بہت دور۔

تمام دلیلوں اور دعوؤں کا مطلب یہ قطعاً نہیں ہے کہ کسی کو ضرورتاً قائل کیا جاۓ۔ لیکن حقعقت بحرحال یہی ہے جو بیان کی گئ ہے ہندوستان میں ایسے بہت سے علاقے ہے جہاں پٹھان آباد ہیں۔ ان کے ساتھ رہنے والی دوسری اقوام یا نسلیں انہیں خان صاحب یا پٹھان بھائ کہتیں ہیں اور انہیں نسلاً پٹھان تسلیم کرتی ہیں۔ ایسی مثالیں اور ثبوت موجود ہیں جب خود انگریزوں نے ہندوستان میں بہت سے پٹھان خاندانوں کو سندیں دیں اور جاگیریں عطا کیں ۔ان سندوں پر بڑے بڑے الفاظ میں لکھ کر تسلیم کیا کہ اُن کا تعلق فلاں افغانی یا پٹھانی قبیلے سے ہے۔ پٹھان جن علاقوں میں آباد تھے اور اب بھی ہیں ان میں روہیلکھنڈ کا علاقہ (جس میں شاہ جہاں پور، پیلی، بھیت، مراد آباد، بدایوں، بجنور، اُمروہہ، اور بریلی شامل ہیں) اور ضلع فرخ آباد، ضلع بلند شہر، ضلع علی گڑھ، ٹونک ،جاوڑہ، ملیر کوٹلہ، جونا گڑھ ماناودر، بڑودہ، پالن پور، مظفر نگر، بھوپال، بانٹو اور کوروالی شامل ہیں۔

جب کبھی کراچی میں پٹھان اور مہاجروں کے درمیان نسلی فسادات ہوتے ہیں تو دل بہت کڑھتا ہے۔ ساری لڑائ جگھڑے میں پٹھان ھی پٹھانوں سے متصادم نظر آتے ہیں، اس لۓ کہ ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں میں بہت سے نسلی طور پر پٹھان ہیں وہ چاہے گورنر عشرت العباد خان ہوں یا ایٹم بم کے خالق عبدالقدیر خان۔ مشہور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی ہوں، یا مشہور مزاح گو شاعر عنایت علی خان ، جن کا ایک شعر کمال اور حسبِ حال ہے۔

             خود ہی خنجر بدست ہوں ہر دم                                    اور خود ہی لہولہان بھی ہوں

میری مشکل عجیب مشکل ہے                                   میں مہاجر بھی ہوں اور پٹھان بھی ہوں

اِن سب باتوں کو جانتے اور کم فہم لوگوں کے اعتراضات اور نکتہ چینوں کو سامنے رکھتے ہوۓ دل نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئ قدم یا پھر قلم اُٹھانا چاہۓ۔ ایسا تحقیقی کام جس میں پٹھانوں کے بارے میں معلومات ہوں خاص طور پر اُن پٹھانوں کے متعلق جو غیر پٹھان علاقوں میں بستے ہیں یا پھر عرصے سے وہاں رہ کر اپنی زبان اور کسی حد تک ثقافت بھی بھول گۓ ہیں۔ کچھ جگہوں پر تو یہ اپنی شناخت تک کھو چکے ہیں جیسے کراچی میں رہنے والے مہاجر پٹھان جونا گڑھ میں رہنے والے بابی پٹھان یا پھر بہار میں رہنے والے سوری پٹھان۔

یوں تو پٹھانوں کی تاریخ، جغرافیے، ابتدا، ثقافت، مذہب اور معیشت پر دنیا بھر کے لکھاریوں نے بہت کام کیا ہے خاص طور پر انگریزوں نے بر صغیر جنوبی ایشیا کی جس نسل یا قوم پر سب سے زیادہ تحقیق کی اور کتابیں لکھی وہ پٹھان قوم ہی ہے۔ ان کے علاوہ حافظ رحمت خان، خان روشن خان، فارغ بخاری اور دوسرے قلم کاروں، مؤرخوں، اور سیاحوں نے پٹھانوں پر قلم اُٹھایا ہے اور بہت سی معلومات جمع کی ہیں۔ میں نے بھی دوسروں کی معلومات اور کچھ اپنی جمع کردہ معلومات سے استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کارِ خیر میں اپنا بھی حصہ ڈال سکوں۔ خاص کر پٹھانوں کے لۓ جنہیں نسلی طور پر تیزی سے بھلایا اور اُن کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ آج بہت سے نیگرو جو اصل میں افریقی ہیں اپنے علاقے کی بولیاں نہیں جانتے جب کے پوری دنیا میں بستے ہیں۔ وہ بولی کوئ بھی بولیں مگر دنیا انہیں نیگرونسل کا ہی گردانتی ہے، چناں چہ نسلی اور لساّنی بحث کو سمیٹتے ہوۓ کوشش کروں گا کہ کچھ معلومات لوگوں تک پہنچاؤں جو ان کے لۓ نئ اور دلچسپ ہوں۔ خاص طور پر ہندوستان کے اصلی پٹھانوں کے بارے میں جن کے آباؤاجداد نے اُس وقت ہجرت کی اور کفروالحاد کی جنگ میں اپنے گھروں سے سیکڑوں ہزاروں میل دور جا کر جنگوں میں حصہ لیا اور علاقوں کو فتح کیا جب کہ آج کے بڑا بول بولنے والے پٹھانوں کے اجداد پہاڑوں میں چھپ کر ہندوستانی پٹھانوں کے اجداد کو دشمنوں کے علاقوں میں جاتے ہوۓ دیکھ کر ہی خوف سے لرزنے لگتے تھے۔

ہندوستان میں بسنے والے پٹھانوں نے نا مساعدحالات دشمنوں کی زبردست یلغار اور اپنی محدود تعداد کے باوجود خود کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ بہت سی علاقائ اور دو دفعہ پورے ملک کی سلطنت بھی حاصل کی۔ میرے کتاب کے لکھنے کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ میں صرف پشتو زبان بول کر اپنے آپ کو دلیر اور نڈر کہلوانے کے بجاۓ لوگوں کے سامنے اصل حقائق اور تصویر پیش کروں تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ وہ کون لوگ ہیں جو اصل میں دلیر بھی ہیں اور نسل میں پٹھان بھی۔

3

Advertisements
پٹھان کون۔۔۔۔؟

4 thoughts on “پٹھان کون۔۔۔۔؟

  1. GUL HASSAN KAKAR says:

    I Gul hassan from Quetta is extremely joy full of hearing such words from the mouth of a pathan living in sindh far from their real homeland (our pakhtoon homeland) and still their blood is alive, proud of all my blood brothers whether they living in any corner of the world we still accept them real pathans and our real brothers we do not accept any inferiority, language difference, and even so called border divisions which divide pathans,pakhtoonss,pashtoons or afghans. Let we find a leader among ourselves to collect the Pathans of the world and unite them like beads.

  2. aziz says:

    very nice effort. .. I appreciate u and totally agree with u.. u did a great job… I wish I hv a copy of ur book.. proud of u… thanks

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s