آئین رفاقت

ایک ناخوشگوار واقعہ کی وجہ سے کنیہڑی اور جئی پہاڑی کے پٹھانوں میں لڑائی کی نوبت آگئی جس کی اجمالی کیفیت یہ ہے کہ کنہیڑی کے ٹھاکر باکہیہ سنگھ کے زمانے میں جئی پہاڑی کے علی خان ناغڑ دکن سے ایک بڑے قد کا شاندار ہاتھی لائے راستہ میں علی خان ناغڑ نے کنہیڑی میں ایک رات قیام کیا۔ جب ٹھاکر باکہیہ سنگھ کو معلوم ہوا کہ جئی پہاڑی کا ایک پٹھان ہاتھی لایا ہے جو رئیسوں کی سواری کے قابل ہے تو ٹھاکر باکہیہ سنگھ نے اپنے کامدار کو حکم دیا کہ وہ ہاتھی خرید لے۔ جب کامدار نے علی خان ناغڑ سے ہاتھی کی قیمت دریافت کی تو علی خان ناغڑ نے اس عذر کے ساتھ فروخت کرنے سے انکار کردیا کہ میں یہ ہاتھی ٹھاکر رنجیت سنگھ کے لیئے لایا ہوں اسے وہ اپنی راجکماری کے جہیز میں دیں گے۔ جب کامدار نے ٹھاکر باکہیہ سنگھ سے رنجیت سنگھ کے لیئے ہاتھی کا لایا جانا بیان کیا تو اس نے حکم دیا کہ کل صبح ہاتھی قیمت دیکر خرید لیا جائے اگر علی خان ناغڑ انکار کرے تو جبراً ہاتھی پر قبضہ کرلیا جائے۔ جب علی خان ناغڑ کو باکہیہ سنگھ کے اس نادرشاہی حکم کا علم ہوا تو اس نے خیال کیا کہ باکہیہ سنگھ جیسے ظالم آدمی سے جس نے کنہیڑی کی لدی حاصل کرنے کو اپنے فرزند کو ہلاک کردیا اس سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ہاتھی جبراً چھین لے۔ چنانچہ علی خان ناغڑ نے رات ہی کو کوچ کردیا اور علی الصبح جئی پہاڑی پہنچ کر ہاتھی کو ڈونڈلود روانہ کردیا اور خود جئی پہاڑی میں ٹہرگئے۔ جب صبح کو ٹھاکر باکہیہ سنگھ کو معلوم ہوا کہ علی خان ناغڑ رات ہی کو چلا گیا تو اس نے سپاہیوں کی ایک جماعت کو اس حکم کے ساتھ جئی پہاڑی بھیجا کہ ہاتھی قیمتاً یا جبراً لے کر آئیں۔ جب کنہیڑی سے سپاہیوں کی جمعیت جئی پہاڑی پہونچی اور ہاتھی کا مطالبہ کیا تو علی خان ناغڑ نے کہا ہاتھی تو ڈونڈلود کا تھا وہیں بھیج دیا گیا تو اس انکار سے کنہیڑی کے آدمی برافروخت ہو کر لڑنے کو تیار ہوئے۔ کنہیڑی کے لوگوں کے اس ارادے کو سمجھ کر علی خان ناغڑ معہ اپنے فرزند امین خان اور خادم سابو کے حویلی میں مورچہ بند ہوگئے اور کوئی ناغڑ پٹھان اس وقت جئی پہاڑی میں موجود نہیں تھا مگر اسی اثنا میں بوڈانا کے حمید خان جو کسی کام کو جئی پہاڑی آئے تھے علی خان کو خطرہ میں دیکھ کر ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور اس طرح سے چار آدمی کنہیڑی کی بڑی جمعیت کے مقابل ہوئے اور بڑی بہادری سے لڑے۔ ایک بڈھی نابینا میٹھانی کی غفلت سے حویلی کی پیچھے کی کھڑکی کھلی رہ جانے سے کنہیڑی کے سپاہی حویلی میں داخل ہوگئے۔ علی خان ناغڑ اور ان کے ساتھی بڑی بہادری سے لڑے اور کنہیڑی کے سپاہیوں کا کافی نقصان کیا یہ چاروں بہادر لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ اس کے بعد کنہیڑی کے سپاہی اپنے ساتھیوں کی لاشیں لیکر بے نیل و مرام واپس چلے گئے اور شہیدوں کو دفن کردیا گیا جن کی قبریں آج بھی پختہ اور اچھی حالت میں موجود ہیں۔ یہ واقعہ 1793 کا ہے۔ علی خان ناغڑ کی اولاد میں اسوقت صرف ایک کمسن بچہ امانت خان باقی بچا جسکی اولاد باقی ہے۔ ٹھاکر رنجیت سنگھ نے علی خان ناغڑ کی وفادارانہ اور جانثارانہ خدمت کے صلہ میں زمین بطور نان کار علی خان کے ورثاء کو عطا کی۔

مندرجہ بالا ہاتھی واقعہ سے پہلے 1787 میں امیر خان جو بعد میں ریاست ٹونک کا نواب بنا معہ 20 نفر کے شیخاوتی میں آیا۔ اسے کسی زریعہ سے معلوم ہوا کہ موضع جئی پہاڑی میں ایک راجپوت مسمی درجن سنگھ بہت مالدار ہے۔ یہ اطلاع ملتے ہی امیر خان جئی پہاڑی پر چڑھ دوڑا تاکہ درجن سنگھ کے گھر کو لوٹ لے۔ جب جئی پہاڑی کے پٹھانوں کو یہ علم ہوا تو وہ امیر خان کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ آپ درجن سنگھ کے گھر کو لوٹنے کے غرض سے آئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم یہ عرض کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ راجپوت ہماری پناہ میں ہیں اور پٹھانوں کے قاعدے کے مطابق اپنے پناہ گیر کی یر قیمت پر حفاظت کریں گے لہذا آپ اس ارادے سے باز آجائیں ورنہ پٹھانوں کے آپس میں لڑنے کا احتمال ہے چنانچہ امیر خان اس ارادے سے باز رہا اور ناغڑ پٹھانوں کی دعوت کھا کر سنگیانہ چلا گیا۔ امیر خان اول سنگیانہ میں جرنل نجف قلی خاں کے رسالہ میں اور اسکے بعد ٹھاکر باکہیہ سنگھ کنہیڑی کی ملازمت میں ایک مختصر عرصہ رہ کر شیخاوتی سے چلا گیا۔

خان بہادر میجر محمد یسٰین خان ناغڑ کی کتاب قبیلہ ناغڑ سے اقتباس

Advertisements
Status

ناخلف شاگرد کا انجام

بیان کیا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک پہلوان اپنے فن میں بہت ماہر تھا. جو پہلوان بھی اس کے مقابلے پر آتا تھا، وہ اسے مار گراتا تھا. چناچہ اس کی اس قابلیت اور مہارت کی وجہ سے بادشاہ اس کی بہت عزت کرتا تھا. یہ نامی پہلوان بہت سے نوجوانوں کو کشتی لڑنے کا فن سکھایا کرتا تھا. ان میں سے ایک نوجوان کو اس نے اپنا شاگرد خاص بنایا تھا اور اسے وہ سارے داؤ پیچ سکھا دیے تھے جو اسے آتے تھے. احتیاط کے طور پر بس ایک داؤ نہ سکھایا تھا.

زمانہ اسی طرح گزرتا رہا. نامی گرامی پہلوان بوڑھا ہوگیا اور اس کا چہیتا شاگرد اپنے وقت کا سب سے بڑا پہلوان بن گیا. شرافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے استاد کا یہ احسان مانتا کہ اس نے اسے اپنا ہنر سکھا کر ایسا قابل بنادیا لیکن وہ کچھ ایسا بد فطرت تھا کہ ایک دن اس نے بادشاہ کے دربار میں یہ بڑہانکی کہ بے شک میرا استاد بزرگی میں مجھ سے زیادہ ہے لیکن طاقت اور کشتی لڑنے کے فن میں اب میں اس سے بڑھ کر ہوں.

بادشاہ کو اس کی یہ بات بہت ناگوار گزری. اس نے حکم دیا کہ استاد شاگرد کشتی لڑیں تاکہ یہ فیصلہ ہوسکے کہ ان دونوں میں کون بڑا پہلوان ہے، چنانچہ ایک میدان میں اکھاڑا تیار کیا گیا اور استاد اور اس کا شاگرد کشتی لڑنے کے لیئے اکھاڑے میں اترے. نوجوان شاگرد اپنی طاقت کے نشے میں جھومتا ہوا استاد کے سامنے آیا. یوں لگتا تھا کہ اگر لوہے کا پہاڑ بھی اس کے سامنے ہو تو وہ اسے اکھاڑ کر پھینک دے گا لیکن جب اس نے استاد سے ہاتھ ملایا اور کشتی شروع ہوئی تو استاد نے اپنا وہی داؤ آزمایا جو اس نے نالائق شاگرد کو نہ سکھایا تھا اور اسے سر سے اونچا اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا.

ہر طرف سے واہ وا کے نعرے بلند ہوئے. بادشاہ نے بوڑھے پہلوان کو خلعت اور بھاری انعام دیا اور ناخلف شاگرد کو خوب لعنت ملامت کی. وہ کہنے لگا کہ استاد صاحب صرف اس وجہ سے جیت گئے کہ انھوں نے مجھے یہ داؤ نہ سکھایا تھا جسے استعمال کرکے مجھے گرادیا.

استاد صاحب نے فوراً جواب دیا، اور یہ داؤ میں نے تجھے اسی خیال سے نہ سکھایا تھا کہ اگر کبھی تو میرے مقابلے پر آجائے تو میں اپنا بچاؤ کرسکوں. دانشمندوں نے بلکل سچ کہا ہے کہ اپنے بہترین دوست کو بھی اس قابل نہیں بنانا چاہیئے کہ اگر وہ کبھی مقابلے پر آجائے تو تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے.

یہ زمانے کا عجب دستور ہے
باوفاؤں پر جفا کرتے ہیں لوگ
جن سے سیکھیں تیر اندازی کا فن
نوک خنجر پر انہیں دھرتے ہیں لوگ

وضاحت: شیخ سعدی نے اس حکایت میں اس سچائی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس طرح انسانوں میں اہلیت اور نااہلیت کا فرق ہے، اسی طرح کمینگی اور شرافت کا فرق ہے اور کمینے سے کچھ بعید نہیں ہوتا کہ اپنے استاد بلکہ اپنے باپ کے سر پر پاؤں رکھنے کے لیئے تیار ہوجائے. اس لیئے دانائی کا تقاضہ یہ ہے علم و ہنر سکھاتے ہوئے بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے اور اپنی حفاظت کے خیال سے غافل نہیں ہونا چاہیئے.

Status

#NineZeroRaid: The Wolf and the Lamb

پٹھان نامہ

Once a wolf was drinking water at stream.

Lower down the stream, a lamb was also drinking.

The wolf wanted to eat him.

He came down to the lamb and said, “Why are you making the water muddy?

The lamb replied, “The water is flowing from you to me. I cannot make it muddy.”

The wolf was ashamed to hear the answer.

The wolf then said, “Why did you abuse me last year?”

The lamb said, “You are mistaken, sir. I was not born last year.”

The wolf said, If it was not you, then it must be your mother.”

Saying this, he killed the lamb and ate it up.

QelxlfzI

View original post

#NineZeroRaid: The Wolf and the Lamb

شربت گلہ

دہلی پر تخت نشین ہونے کے کچھ عرصہ بعد سلطان بہلول لودھی ملتان اور پنجاب کے انتظام کے لئے چلا گیا پیچھے سے محمود شرقی نے میدان خالی پاکر لشکر عظیم کے ساتھ دہلی پر حملہ کردیا. دہلی میں پٹھانوں کی تعداد بہت کم تھی جو ایک بڑے تیاری لشکر کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی. اسی وجہ سے پٹھان معہ اہل و عیال قلعہ میں پناہ گزین ہوگئے . بہلول کی ساس بی بی متو نے مردوں کی کمی پوری کرنے کے لئے قلعہ میں موجود تمام عورتوں کو مردانہ لباس پہنا کر لڑنے کے لئے کھڑا کردیا جو قلعہ کی دیوار سے دشمن پر تیر باری اور سنگ باری کرتیں. جب بہلول کو دیپالپور میں محمود شرقی کے دہلی پر حملہ کی اطلاع ملی تو اس نے وہی سے تیز رفتار قاصد اس پیغام کے ساتھ افغانستان بھیجے کہ ” اللہ تعالی نے دہلی کی بادشاہت پٹھانوں کو عطا فرمائی ہے مگر سلاطین ہند انہیں یہاں سے نکالنا چاہتے ہیں. اس وقت پٹھانوں کے اہل و عیال قلعہ دہلی میں محصور ہیں, مستورات کی شرم ہماری اور آپ کی ایک ہے. ناموس کا اقتضا یہ ہے کہ آپ اپنے قبیلوں کے ساتھ یہاں آئیں اور اپنے ناموس کی حفاظت کریں. اس پیغام کے ملتے ہی پٹھانوں کے قبائل شروانی, شیرانی, لوحانی, پنی اور ناغڑ بہ سرعت تمام ہندوستان پہنچ گئے.

14962284_1155435487870927_44759604_n

حاجی زردار خان ناغڑ صاحب کی کتاب ” صولت افغانی ” اے اقتباس

Status

اناالحق

  ذی الحج 23- 302  کو بغداد میں یہ اعلان کردیا گیا کہ آج منصور رحمتہ اللہ علیہ کو پھانسی دی جائے گی ، لیکن ایک گروہ کی سیاسی مداخلت سے اس روز عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ 23 زی الحج کی رات کو پچھلے پہر منصور نے حوالات کے پیچھے سجدے سے سراٹھایا اور بلند آواز میں کہا ” شہادت میرے نصیب میں ہے اور روز آخرت میں فاتحوں کی طرح اٹھوں گا”.  24زی الحج کی صبح طلوع ہوئی تو باب خراساں کے تھانے کے سامنے کرائے کے آدمیوں کا ہجوم تھا جنہیں خاص طور پر وہاں لایا گیا تھا ۔ منصور رحمتہ اللہ علیہ کو حوالات سے تختہ دار لایا گیا تو حامیوں اور مخالفوں پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ منصور رحمتہ اللہ علیہ بہادروں کی طرح خود تختہ دار کی طرف بڑھے اور اس نے تختہ دار پر کھڑے ہوکر آس پاس نگاہ ڈالی ۔ لکھے گئے فیصلے کے مطابق سب سے پہلے اسے کوڑے مارے گئے ۔ اس کے بعد ہاتھ کاٹے گئے ۔  “منصور رحمتہ اللہ علیہ نے کہا تم نے میرے ظاہری ہاتھ کاٹ دیے ہیں لیکن میرے باطنی ہاتھ اب بھی موجود ہیں جو میرے مقصود کو چھورہے ہیں “.  پھر اس کے پاوں کاٹ دیے گئے ۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ نے مسکراکر کہا ” میں ان پیروں سے خاک پر چلا کرتا تھا لیکن میرے باطنی پیراب بھی موجود ہیں جو دونوں عالم کا سفر کرتے ہیں ۔ ہوسکے تو انہیں بھی کاٹ دو “.کچھ دیر کے بعد  منصور نے کٹے ہوئے خون آلودہ بازوں کو چہرے پر مل کر چہرہ اور بازو خون آلودہ بازوؤں کو چہرے پر مل کر چہرہ اور بازو خون آلودہ کرلیے ۔ لوگوں نے سوال کیا آپ نے خون چہرے پر کیوں مل لیا ؟ . منصور رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا ” میں جانتا ہوں زیادہ خون بہہ جانے سے میرا رنگ پیلا پڑگیا ہو گا اور تم سمجھ رہے ہوگے کہ یہ کسی خوف کی وجہ سے ہے ۔ لہٰذا میں نے اپنا چہرہ سرخ کرلیا تاکہ تمہارے سامنے سرخرو رہوں ۔ لیکن حقیقت تو صرف اتنی ہے کہ عشق کی نماز صرف خون کے وضو سے ہی ادا ہوسکتی ہے ۔’ اچانک ایک جلاد آگے بڑھا اور اس نے منصور کی آنکھیں نکال دیں ۔ ہجوم چیخ اٹھا ۔  جلاد نے زبان کاٹنا چاہی تو منصور رحمتہ اللہ علیہ نے کہا  ٹھہرو مجھے کچھ کہنا ہے “.  اتنا کہ کر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا ” اے  خداوند بحروبر ! تو کس طرح اسے دوست نہ رکھے گا جو تیری راہ میں دکھ اٹھاتا ہے ” .  

جب آپ کی زبان کاٹی گئی تو شام  ہوچکی تھی ، سرکاٹنے کا عمل باقی تھا کہ شہر میں ہنگامہ ہوگیا اور خلیفہ کی طرف سے سر کاٹنے کا حکم آنے میں دیر ہوگئی ۔ قاصد خلیفہ کا حکم لے کر عجلت میں باب  خراساں  پہنچا ۔ اس کے ساتھ ابن مکرم کے فراہم کردہ زرخرید گواہ تھے اور وہ پکار پکار کہہ رہے تھے اس کا قتل کرنا مسلمانوں کے حق میں ہے اسے قتل کردو ۔ خون ہماری گردنوں پر ہے ۔ جلاد نے زور سے ہاتھ چلایا اور سرکٹ  کر نیچے آگرا۔ ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی اور منصور رحمتہ اللہ علیہ کے ہر قطرہ خون سے اناالحق کی صد آرہی تھی ۔ شام سے پہلے سربریدہ جسم کو تختہ دار سے  اتار تیل میں تر کر کے آگ لگادی گئی۔ جب جسم خاکستر ہوگیا تو ایک مینار سے راکھ دریائے دجلہ میں بہا دی گئی ۔

img-20161002-wa00081

Status

یہ گڑیانی ہے

قوموں کے لئے موت ہے مرکز سے جدائی

ہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے خدائی

اقبال کا یہ شعر گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں پر جیسا صادق آیا اس سے پہلے شاید ہی کسی قوم یا قبیلہ پر آیا ہوگا یوں تو اس سے پہلے ہی ہمارا بدقسمت قبیلہ اپنی اجتماعی قوت کھو چکا تھا مگر تقسیم ملک کی ضرب کاری نے تو ناغڑوں کے شیرازہ کو بکھیرنے کی تکمیل ہی کردی. گڑیانی جو معہ اپنے پانچ گاؤں کے اپنی اجتماعی, اقتصادی, معاشی اور سیاسی حالت کو مضبوط کئے بیٹھے تھے اور ریاست کرولی میں ان کے بھائی ایک جگہ ریاست میں بڑی شان سے رہ رہے تھے وہ بھی منتشر ہوگئے غرض یہ کہ شیخاوتی میں جو ناغڑ پٹھانوں کا مرکز ہے وہاں سے اودھ اور دکن تک تمام ناغڑوں پر زلزلہ آگیا اور سب اپنی اپنی جگہوں پر ہل گئے مگر گڑیانی کو جو صدمہ سہنا پڑا وہ سب سے زیادہ تھا. جب انگریز کو اس امر کا یقین ہوگیا کہ اب ہندوستان میں ان کے قدم جمنا ناممکن ہیں تو انہوں نے انتقام کے لئے اپنا پرانا ہتھیار استعمال کرکے انتقام لیا اور خوب لیا کہ اپنی سیاسی چالوں سے ہندو اور مسلمانوں کے دلوں میں نفاق کا ایسا بیج بویا جو کئی صدیوں تک سرسبز رہیگا وہ اپنے ایک سپاہی کا خون گرائے بغیر ہندو,مسلمانوں کے دس لاکھ افراد کا ایک دوسرے کے ہاتھوں خون بہا گئے.

جب گڑگاؤں کے ضلع میں فساد شروع ہوئے اور ڈپٹی کمشنر نے جو ایک انگریز تھا فسادات روکنے کی جانب کوئی توجہ نہیں کی تو گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں نے خیال کیا کہ فسادات کی لپیٹ ان تک بھی نہ پہنچ جائے تو انہوں نے بڑی دانشمندی سے اپنے قرب و جوار کے بھائیوں کے پانچوں گاؤں کو گڑیانی میں لے آئے ان کے علاوہ تقریباََ دو ہزار میو رانگڑ اور پست اقوام کے افراد گڑیانی میں پناہ گزین تھے جن کی حفاظت اور روزمرہ کی ضروریات بھی گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں نے اپنے ذمہ لے رکھی تھی انہیں ایام میں پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں پنڈت جواہر لال نہرو وزیراعظم ہندوستان کو گڑیانی کے مسلمانوں کی حفاظت کی جانب توجہ مبذول کروائی جس کا فوری اثر ہوا اور پنڈت جواہر لال نہرو نے کماؤں رجمنٹ کے سپاہیوں کا ایک دستہ ایک صوبیدار اور نائب صوبیدار کی ماتحتی میں گڑیانی کے مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر گڑیانی بھیجدیا اور اسی دستہ کو گڑیانی کے مسلمانوں کو اپنی حفاظت میں پاکستان پہونچانے کا فرض بھی سپرد کیا گیا. کچھ تو حکومت ہند کی فوری توجہ کی وجہ سے اور کچھ مقامی حکام مثل دہلی سپرنٹنڈٹ پولیس اور تھانیدار جو کہ دونوں سکھ تھے کی اپنے فرائض کو ایمانداری سے انجام دینے کے سبب گڑیانی میں امن و امان رہا. اس کے علاوہ قرب و جوار کے ہندو بھائیوں نے بھی کوئی مخمصانہ کاروائی نہیں کی وہ دوستانہ طور پر گڑیانی میں آتے جاتے رہے اور ملتے جلتے رہے حتی کہ کوسلی جو اسیر قوم کی بڑی بستی تھی اور گڑیانی سے صرف چار میل کے فاصلہ پر ہے نیز بلوائیوں کا مرکز بھی کوسلی میں تھا جہاں سے بلوائیوں کو راشن تقسیم ہوتا تھا انہوں نے بھی گڑیانی کے خلاف کوئی حرکت نہیں کی اور ہر طرح کا امن و امان رہا.

جب ہند و پاکستان ہر دو حکومتوں کے درمیان اس امر کا قطعی فیصلہ ہوگیا کہ تبادلہ آبادی کے سلسلہ میں مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو پاکستان جانا ہوگا جس پر گڑیانی کے سربرآوردہ پٹھانوں نے حکومت ہند, پنڈت جواہر لال نہرو, گورنر پنجاب اور ڈپٹی کمشنر رہتک کی خدمت میں درخواستیں اور تار دیئے کہ ہم اپنا وطن عزیز چھوڑ کر پاکستان جانا نہیں چاہتے مگر حکومتوں کے فیصلوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور گڑیانی کے ناغڑ پٹھانوں کی درخواستوں پر کوئی شنوائی نہیں کی گئی.

آخر کار 21 نومبر 1947ء کو گڑیانی کی کل آبادی دو ٹرینوں کے زریعے کماؤں رجمنٹ کی کمپنی کی حفاظت میں باچشم گریاں اور سینہ بریاں ایک اسٹیشن کے فاصلہ سے پاکستان کی جانب روانہ ہوئے. روانگی کا منظر بڑا دردناک تھا ہر شخص کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور غم سے سینے پھٹے جارہے تھے اور چہروں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پاکستان نہیں پھانسی کے تختہ پر جارہے ہوں. انسان کے لئے اس سے بڑھ کر دوسری مصیبت نہیں کہ اس کا گھر بار اس سے چھڑایا جائے.

گاڑی جس اسٹیشن پر ٹہرتی وہاں اسٹیشن کے ہر جانب سے یہی صدا آتی کہ یہ گڑیانی ہے چنانچہ بہواتی, ہاتھی, حصار اور ہٹنڈہ پر یہی فقرے کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ گڑیانی ہے. معلوم ہوتا تھا کہ راستہ کے تمام مقامات پر پہلے ے خبر کردی گئی تھی مگر ہندوستانی فوج کا دستہ اپنا فرض کماحقہ ادا کررہا تھا اس وجہ سے راستہ میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا. جب ٹرین کورٹ کورہ سے چار میل کے فاصلہ پر پہونچی تو ٹرین کھڑی ہوگئی اور ڈرائیور انجن کو ٹرین سے جدا کرکے کورٹ کپورہ کے اسٹیشن پر لے گیا. اسی عرصہ میں دوسری ٹرین بھی پہنچ گئی. انجن ڈرائیور کے کورٹ کپورہ پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد بلوائیوں کی ایک بڑی جماعت لاریوں میں بیٹھ کر ٹرینوں کے کھڑے ہونے کی جگہ پہنچی جو کہ ٹرینوں پر حملہ کرنے کی غرض سے آئی تھی جس کا انتظام پہلے سے کرلیا گیا تھا. بلوائیوں کا لیڈر جو ایک فوجی افسر معلوم ہوتا تھا فوج کے حفاظتی دستہ کے صوبیدار سے کچھ عرصہ گفتگو کرتا رہا غالباََ صوبیدار کو ساتھ ملانا چاہتا تھا مگر صوبیدار اور نائب صوبیدار جو نہایت ایماندار اور اپنے فرض کے پابند تھے انہوں نے فوراََ اپنے فوجی دستہ کو ہتھیار سنبھال کر حفاظت کے لئے تیار کردیا. صوبیدار نے بلوائیوں کے لیڈر کو صاف جواب دے دیا کہ پہلے ہم اور ہمارا فوجی دستہ ختم ہوگا اسکے بعد ہی کوئی شخص ٹرین کے نزدیک آسکے گا بلوائیوں کا لیڈر یہ سن کر مایوسی کی حالت میں واپس چلاگیا جسکے چلے جانے کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ صوبیدار نے بلوائیوں کے لیڈر کو یہ بھی کہدیا تھا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو میں پاکستان کو جس کی سرحد بہت قریب ہے. وائرلیس کے زریعے پاکستانی فوج طلب کرلوں گا. صوبیدار مزکورہ ٹرین کے انجن میں بیٹھ کر دو اسٹیشن آگے گیا یہ دیکھنے کے لئے کہ کہیں بلوائیوں نے ریل کی لائن نہ خراب کردی ہو اس کا اطمینان کرلینے کیبعد رات 9 بجے دونوں ٹرینیں روانہ ہوئیں اور 23 نومبر کو بغیر کسی حادثہ کے قریب سے فاضل کا اسٹیشن پہنچ گئی اور پاکستان کی سرحد میں داخل ہوگئیں.

خان بہادر میجر محمد یٰسین خان ناغڑ کی کتاب قبیلہ ناغڑ سے اقتباس 

Status

میمن قومی موومنٹ پاکستان

سن 1965 کی جنگ سے کچھ پہلے ایک نہایت وضح دار اور بزرگ شخصیت میرے ہیڈکواٹر میں آئی_ انہوں نے شیروانی پہن رکھی تھی اور سر پر ترکی ٹوپی سجا رکھی تھی_ کہنے لگے میں نے برگیڈیر مٹھا سے ملنا ہے_ وہ میرے نانا کو جانتے تھے_ مجھ سے ملے تو کہنے لگے کہ میں بھی میمن ہوں اور بطور میمن جب میں نے سنا کہ آپ نہ صرف ایک بریگیڈ کی کمان کر رہے ہیں بلکہ پاکستان آرمی کی واحد کمانڈو یونٹ ایس ایس جی کی تشکیل بھی آپ ہی نے کی ہے تو اس پر مجھے بھی اور ساری میمن برادری کو بھی آپ پر فخر ہے_ انہوں نے مجھے کہا کہ اگلی بار جب میں چٹاگانگ آؤں تو ان سے ضرور ملوں کیونکہ وہاں کی تمام میمن برادری مجھ سے ملاقات کی از حد مشتاق ہے_ ان کی بزرگی, میرے نانا کے ساتھ ان کی زاتی دوستی اور اس باعث کے وہ چٹاگانگ سے چل کر مجھے ملنے کومیلا آئے تھے, میں نے حامی بھر لی کہ چٹاگانگ آنا ہوا تو ضرور ملاقات ہوگی_ وہ اپنا ایڈریس دے کر چلے گئے_ کچھ دنوں بعد میرا چٹاگانگ جانا ہوا تو میں نے انہیں فون کیا اور بتایا کہ میں فلاں فلاں دن آرہا ہوں اور آپ کو مل کر خوشی ہوگی_ جب میں چٹاگانگ پہنچا اور مقام معینہ پر گیا تو دیکھ کر حیران ہوگیا کہ وہ نہ صرف میمن برادری کی ایک سرکردہ شخصیت تھے بلکہ سارے مشرقی پاکستان کی میمن برادری کے سربراہ بھی تھے_ انہوں نے میرا نہایت پرتپاک استقبال کیا_ بہت بڑا ہجوم تھا جس نے میری آؤ بھگت کی اور پھولوں سے مجھے لاد دیا_ پھر ایک لمبی سی تقریر کی اور آخر میں مجھے کہا کہ آپ بھی دوچار لفظ ارشاد فرمائیں_ میں نے ایک مختصر سی تقریر کی جو میمنی زبان میں نہیں, اردو زبان میں تھی_ اس پر وہ بہت حیران ہوئے اور میری “ناموری” کچھ گہنا سی گئی_ یہ تمام کچھ میرے لئے خاصا پریشان کن تھا_ میں نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ آئندہ اس قسم کے جال میں نہیں پھنسو گا_ لیکن آئندہ اس بات کی نوبت ہی نہ آئی_ 1971ء کی جنگ کے بعد میری اس پاکستانی میمن برادری نے جب دیکھا کہ میں ذولفقار علی بھٹو اینڈ کمپنی کی نگاہوں میں قابل تکریم نہیں رہا تو انہوں نے مجھے یکایک اپنی نظروں سے گرادیا!

(میجر جنرل ابوبکر عثمان مٹھا کی کتاب ” بمبئ سے جی ایچ کیو تک” سے اقتباس)

Status